ﺑﮭﻮﮎ ﭼﮩﺮﻭﮞ ﭘﮧ ﻟﯿﮯ ﭼﺎﻧﺪ ﺳﮯ ﭘﯿﺎﺭﮮ ﺑﭽّﮯ

ﺑﮭﻮﮎ ﭼﮩﺮﻭﮞ ﭘﮧ ﻟﯿﮯ ﭼﺎﻧﺪ ﺳﮯ ﭘﯿﺎﺭﮮ ﺑﭽّﮯ
ﺑﯿﭽﺘﮯ ﭘﮭﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﮔﻠﯿﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﻏﺒﺎﺭﮮ ﺑﭽّﮯ
۔
ﺍﻥ ﮨﻮﺍﺅﮞ ﺳﮯ ﺗﻮ ﺑﺎﺭﻭﺩ ﮐﯽ ﺑُﻮ ﺁﺗﯽ ﮨﮯ
ﺍﻥ ﻓﻀﺎﺅﮞ ﻣﯿﮟ ﺗﻮ ﻣﺮ ﺟﺎﺋﯿﮟ ﮔﮯ ﺳﺎﺭﮮ ﺑﭽّﮯ
۔
ﮐﯿﺎ ﺑﮭﺮﻭﺳﮧ ﮨﮯ ﺳﻤﻨﺪﺭ ﮐﺎ، ﺧﺪﺍ ﺧﯿﺮ ﮐﺮﮮ!
ﺳﯿﭙﯿﺎﮞ ﭼﻨﻨﮯ ﮔﺌﮯ ﮨﯿﮟ ﻣﺮﮮ ﺳﺎﺭﮮ ﺑﭽّﮯ
۔
ﮨﻮ ﮔﯿﺎ ﭼﺮﺥِ ﺳﺘﻢ ﮔﺮ ﮐﺎ ﮐﻠﯿﺠﮧ ﭨﮭﻨﮉﺍ
ﻣﺮ ﮔﺌﮯ ﭘﯿﺎﺱ ﺳﮯ ﺩﺭﯾﺎ ﮐﮯ ﮐﻨﺎﺭﮮ ﺑچے
۔
ﯾﮧ ﺿﺮﻭﺭﯼ ﮨﮯ ﻧﺌﮯ ﮐﻞ ﮐﯽ ﺿﻤﺎﻧﺖ ﺩﯼ ﺟﺎﺋﮯ
ﻭﺭﻧﮧ ﺳﮍﮐﻮﮞ ﭘﮧ ﻧﮑﻞ ﺁﺋﯿﮟ ﮔﮯ ﺳﺎﺭﮮ ﺑﭽّﮯ

بیدل حیدری

سارے پتٌے ٹوٹ رہے ہیں ڈالی سے

غزل

سارے پتٌے ٹوٹ رہے ہیں ڈالی سے
بیر خزاں کو کیسا ہے، ہریالی سے

جن کو سارا باغ ملا ہے ورثے میں
پوچھ رہے ہیں، تونے کیا، کیا؟ مالی سے

مجبوری کو نام بھلے کوئی دے دو
کیا لینا ہے اس کو خیر سگالی سے

مجھ سے پردہ ہے تو کہئے آپ ہمیں
دیکھ رہے ہیں کیوں چلمن کی جالی سے

دیکھا ہے رخسارِ فلک پر چاند نیا
ملتا جلتا تیرے کان کی بالی سے

تم میرے ہمراہ نہیں ہوتے ہو جب
لگتے ہیں سب منظر، خالی خالی سے

اہلِ نظر میں قدر ہو دانشؔ تو بہتر
ہوتا کیا ہے نا فہموں کی تالی سے!!

(ڈاکٹر ندیم ظفر جیلانی، دانشؔ)

تڑپ اٹھتا ہے دل، لفظوں میں دہرائی نہیں جاتی

تڑپ اٹھتا ہے دل، لفظوں میں دہرائی نہیں جاتی
زباں پر کربلا کی داستاں لائی نہیں جاتی

حسین ابنِ علی کے غم میں ہوں دنیا سے بیگانہ
ہجومِ خلق میں بھی میری تنہائی نہیں جاتی

اداسی چھا رہی ہے روح پر شامِ غریباں کی
طبیعت ہے کہ بہلانے سے بہلائی نہیں جاتی

کہا عبّاس نے افسوس، بازو کٹ گئے میرے
سکینہ تک یہ مشکِ آب لے جائی نہیں جاتی

جتن ہر دور میں کیا کیا نہ اہلِ شر نے کر دیکھے
مگر زھرا کے پیاروں کی پذیرائی نہیں جاتی

دلیل اس سے ہو بڑھ کر کیا شہیدوں کی طہارت پر
کہ میّت دفن کی جاتی ہے، نہلائی نہیں جاتی

طمانچے مار لو، خیمے جلا لو، قید میں رکھ لو
علی کے گل رُخوں سے بُوئے زھرائی نہیں جاتی

کہا شبّیر نے، عبّاس تم مجھ کو سہارا دو
کہ تنہا لاشِ اکبر مجھ سے دفنائی نہیں جاتی

حُسینیّت کو پانا ہے تو ٹکّر لے یزیدوں سے
یہ وہ منزل ہے جو لفظوں میں سمجھائی نہیں جاتی

وہ جن چہروں کو زینت غازۂ خاکِ نجف بخشے
دمِ آخر بھی ان چہروں کی زیبائی نہیں جاتی

نصیر آخر عداوت کے بھی کچھ آداب ہوتے ہیں
کسی بیمار کو زنجیر پہنائی نہیں جاتی

(سید نصیر الدین نصیر)

وہ میں نہیں ھوں

وہ میں نہیں ھوں
وہ آنکھوں آنکھوں میں بولتی ھے
تو اپنے لہجے میں
کچی کلیوں کی نکہتیں
ادھ کھلے گلابوں کا رس
خنک رت میں شہد کی موج گھولتی ھے
وہ زیرِ لب مسکرا رہی ھو
تو ایسے لگتا ھے
جیسے شام و سحر گلے مل کے ان سنی لے میں گائیں
صبا کی زلفیں کھلیں
ستاروں کے تر سانسوں میں جھنجھنائیں
وہ ابروؤں کی کماں کے سائے
چاہتوں سے اٹی ھوئی دھوپ
راحتوں میں کھلی ھوئی چاندنی
کے موسم نکھارتی ھے
وہ دل میں خواہش کی لہر لیتی ضدیں
خیالوں کی کرچیاں تک اتارتی ھے
ھوا کی آوارگی کے ھمراہ اپنی زلفیں سنوارتی ھے
کبھی وہ اپنے بدن پہ اجلی رتوں کا ریشم پہن کے نکلے
تو کتنے رنگوں کے دائرے
سلوٹوں کی صورت میں ٹوٹتے ھیں
وہ لب ہلائے تو پھول جھڑتے ھیں
اسکی باتیں؟
کہ جیسے کجِ دیارِ یاقوت سے شعاعوں کے ان گنت
تار پھوٹتے ھیں
وہ سر سے پاؤں تلک
دھنک دھوپ چاندنی ھے
دھلے دھلے موسموں کی بے ساختہ
غزل بخت شاعری ھے
( میرے ہنر کے سبھی اثاثوں سے قیمتی ھے)
وہ مجھ میں گھل مل گئی ھے لیکن
ابھی تلک مجھ سے اجنبی ھے
کسی ادھوری گھڑی میں
جب جب وہ بے ارادہ محبتوں کے
چھپے چھپے بھید کھولتی ھے
تو دل یہ کہتا ھے
جس کی خاطر وہ اپنی” سانسیں”
وفا کی سولی پہ تولتی ھے
وہ آسماں زاد، کہکشاں بخت، ( کچھ بھی کہہ لو)
جو اسکی چاہت کا آسرا ھے
وہ میں نہیں ھوں
کوئی تو ھے جو میرے سوا ھے
وہ شہر بھر کے تمام چہروں سے ہٹ کے
اک اور مہرباں ھے
جو اسکی خواھش کا آسماں ھے
( کسے خبر کون ھے کہاں ھے؟)
مگر مجھے کیا ؟
کہ میں زمیں ھوں
وہ جس کی چاہت میں اپنی سانسیں لٹا رہی ھے
وہ” میں” نہیں ھوں
وہ آنکھوں آنکھوں میں بولتی ھے

چراغِ زندگی ہوگا فروزاں، ہم نہیں ہونگے

چراغِ زندگی ہوگا فروزاں، ہم نہیں ہونگے ـ
چمن میں آئے گی فصلِ بہاراں، ہم نہیں ہونگے ـ

جوانوں اب تمھارے ہاتھ میں تقدیرِ عالَم ہے ـ
تمہی ہو گے فروغِ بزمِ اِمکاں، ہم نہیں ہونگے ـ

جئیں گے وہ جو دیکھیں گے بہاریں زُلفِ جاناں کی ـ
سنوارے جائیں گے گیسوئے دَوراں، ہم نہیں ہونگے ـ

ہمارے ڈُوبنے کے بعد اُبھریں گے نئے تارے ـ
جبیں دہر پہ چَھٹکے گی افشاں، ہم نہیں ہوں گے ـ

نہ تھا اپنے نصیبے میں طُلوع مہْر کا جلوَہ ـ
سحر ہو جائے گی شامِ غرِیباں، ہم نہیں ہوں گے ـ

ہمارے دَور میں ڈالیں گئ تھیں اُلجھنیں لاکھوں ـ
جنُوں کی مُشکلیں جب ہونگی آساں، ہم نہیں ہوں گے ـ

کہیں ہم کو دِکھا دو اِک کِرن ہی ٹِمٹِماتی سی ـ
کہ جس دن جگمگائے گی شبِستاں، ہم نہیں ہوں گے ـ

اگر ماضی منوّر تھا کبھی، تو ہم نہ تھے حاضر ـ
جو مستقبل کبھی ہو گا درخشاں، ہم نہیں ہونگے ـ

ہمارے بعد ہی خُونِ شہِیداں رنگ لائے گا ـ
یہی سُرخی بنے گی زیبِ عُنواں، ہم نہیں ہوں گے ـ

عبدالمجید سالک