تیرا ذکر ہو تیری فکر ہو، تیری یاد ہی صبح و شام ہو

مناجات

تیرا ذکر ہو تیری فکر ہو، تیری یاد ہی صبح و شام ہو
میرے پاک رب میری زندگی تیری بندگی میں تمام ہو

تیری درگزرکی نگہ تلےمیرےروزوشب کے یہ سلسلے
تیری عافیٔت کی نگاہ کو میری لغزشوں کا سلام ہو

میں ضرورتوں کا ہوں سلسلہ، تو عنایٔتوں کا معاملہ
تو دیا کرے میں لیا کروں یُوں ہی اپنا طرز مُدام ہو

میں سوال ہوں تو جواب ہے، تیری دین کی حد نہ حساب ہے
جو طلب کروں وہ ملے مجھے، یوں نوازشوں کا انعام ہو

تو فقیہِ عالمِ کُن فَکاں، تیرا وصف مجھ سے ہو کیا بیاں؟
تو نے کن کہا تو یہ جگ بنا، تیرے کُن کو میرا سلام ہو

میں نجیب ہوں تو مُجیب ہے، شہِ رگ سے زیادہ قریب ہے
تجھے تجھ سے بڑھ کے میں مانگ لوں، میرے ظرف کا وہ مقام ہو

تیرا ذکر ہو تیری فکر ہو، تیری یاد ہی صبح و شام ہو

مناجات

تیرا ذکر ہو تیری فکر ہو، تیری یاد ہی صبح و شام ہو
میرے پاک رب میری زندگی تیری بندگی میں تمام ہو

تیری درگزرکی نگہ تلےمیرےروزوشب کے یہ سلسلے
تیری عافیٔت کی نگاہ کو میری لغزشوں کا سلام ہو

میں ضرورتوں کا ہوں سلسلہ، تو عنایٔتوں کا معاملہ
تو دیا کرے میں لیا کروں یُوں ہی اپنا طرز مُدام ہو

میں سوال ہوں تو جواب ہے، تیری دین کی حد نہ حساب ہے
جو طلب کروں وہ ملے مجھے، یوں نوازشوں کا انعام ہو

تو فقیہِ عالمِ کُن فَکاں، تیرا وصف مجھ سے ہو کیا بیاں؟
تو نے کن کہا تو یہ جگ بنا، تیرے کُن کو میرا سلام ہو

میں نجیب ہوں تو مُجیب ہے، شہِ رگ سے زیادہ قریب ہے
تجھے تجھ سے بڑھ کے میں مانگ لوں، میرے ظرف کا وہ مقام ہو