یہ وطن ہے یاروں کا

یہ وطن ہے یاروں کا ، پیاروں کا، عشق کے ماروں کا
خوشی کے پھول کھلتے ھیں
خوشی کی پھول ملتے ہیں
خوشی کا پیارا آنگن ہی
خوشی سے پر یہ گلشن ہے
یہ گلشن ہے دیوانوں کا
یہ گلشن ہے مستانوں کا
یہ وطن ہے یاروں کا ، پیاروں کا، عشق کے ماروں کا
ہمیں احساس آزادی
ہمیں ہے پیاس آزادی۔
ہمارے ویر جوانوں سے
ہمیں ہے آس آزادی۔
گئے جو لڑنے میداں میں
وہی ہیں بہادر انساں میں۔
انھیں سے آس لگائی ہے
انہوں نے پیاس بجھائی ہے۔
وہی تو دیش کے واسی ہیں
وہی تو یاں کے نواسی ہیں۔
وہی ہیں اصلی محب وطن
ان ہی کا سارا ہے گلشن۔
یہ وطن ہے یاروں کا ، پیاروں کا، عشق کے ماروں کا
اب آؤ ذرا سی سیر کریں
آجاؤ یہاں کی سیر کریں۔
یہ تاج محل ہے دیکھ تو لو
یہ پیار محل ہے دیکھ تو لو۔
یہ مثال عظیمُ محبت ہے
یہ منزل عشق و الفت ہے۔
یہ لال قلعہ کی عمارت ہے
دیکھ اسمیں کتنی ندرت ہے۔
یہ جامع مسجد دھلی کی
کیا خوب ھاں خوب عمارت ہے۔
یہ پاک مقدس گنگا ہے
اور پانی اسکا امرت ہے۔
یہ باب بلند فتحپوری
یہ نشان فتح و نصرت ہے۔
یہ کس نے بنایا ایلورا
سب کے لئےاس میں عبرت ہے۔
یہ دیس سراپا نعمت ہے
ہم سب پہ خدا کی رحمت ہے۔
یہ وطن ہے یاروں کا ، پیاروں کا، عشق کے ماروں کا
یہ بلند ہمالہ میرا ہے
یہ وادی میرا مسکن ہے۔
یہ جنت ساری دنیا کی
یہ ہندوستان کی دلہن ہے۔
پنجاب تو میرا گھر اپنا
یہ لوگ ہیں اپنے در اپنا۔
یہ راجستھان تو پیارا ہے
یہ ریگستان ہمارا ہے۔
گجرات مراٹھا کیرالہ
یوپی اور بھار ہمارا ہے۔
یہ شمال مشرق آبادی
یہ سب بھی ہمارے بھائی ہیں۔
کشمیر سے لیکر کنیا تک
ھر ایک زمین ہماری ہے۔
ہمُ ہی تو اسکے باشندے
ہمیں کون یھاں سے نکالے گا۔
یہ وطن ہے یاروں کا ، پیاروں کا، عشق کے ماروں کا
ہمُ نوجوان ملت ہیں
اور سراپا عشق و الفت ہیں۔
ہمُ میں ہی اتنی طاقت ہے
ہم کو ہی سب پر قدرت ہے۔
ہمُ ہی تو آگ لگاتے ہیں
ہم ہی تو پیاس بجھاتے ہیں۔
مظلوم ہمارا بھائی ہے
ظالمُ کو یہاں رسوائی ہے۔
یہ وطن ہے یاروں کا ، پیاروں کا، عشق کے ماروں کا
یہ ہندو مسلمُ کیا کہنے
یہ سکھ عیسائی کیا کہنے۔
ہم سب میں اتنی اخوت ہے
ہمُ سب میں اتنی محبت ہے۔
نہ کوئی لڑائی نہ جھگڑا
نہ دل میں کوئی کدورت ہے۔
فیصل جو تمہارا بھائی ہے
اس نے یہ بات بتائی ہے۔
یہ دیس سراپا گلشن ہے۔
اور ہم لوگوں کا مسکن ہے۔
یہ وطن ہے یاروں کا ، پیاروں کا، عشق کے ماروں کا

میری امی میر ے ابو

فیصل انس

میری امی میر ے ابو
میری دنیا میری عقبی
جو ہیں منبع ہوئی جن سے
خدا کی رحمتیں جاری
خدا کی برکتیں جاری

وہ آنچل انکا بوسیدہ
پلا میں جس کے سائے میں
طفولت سے جوانی تک
وہ آنچل ساری دنیا کے
خزانوں سے گرانقدر ہے

وہ آنچل جو بچاتا ہے
مجھے بارش میں پانی سے
مجھے سرد ی میں ٹھنڈک سے
مجھے گرمی میں حدت سے

وہ آنچل جس کے سائے میں
میں صبح و شام رہتا ہوں
میں جب آتا ہوں باہر سے
تھکا ہارا پریشاں بھی
میں اسکو اوڑھ لیتا ہوں
سکوں محسوس کرتا ہوں

کبھی جب خوف ہوتا ہے
زمانہ میرا دشمن ہو
میں ماں کے پاس آتا ہوں
پھر آغوش محبت میں
میں اپنے سر کو رکھتا ہوں
کہاں کا خوف کیسا ڈر؟
بس انکا مسکرا دینا
اور انکا ایک یہ جملہ
کہ بیٹا کچھ نہیں ہوگا
مجھے کیا چین دیتا ہے!

کبھی جب گھر کو جاتا ہوں
میری حالت یہ ہوتی ہے
پریشاں دل پریشاں دل
وہ دل پر ہاتھ رکھتی ہے
پریشاں دل سکوں میں دل
وہ سر پر ہاتھ رکھتی ہے
تھکن ساری رفو چکر
الم سارا رفو چکر

میری ماں میری جنت ہے
میرے والد ہیں دروازہ
وہ دونوں میری آنکھیں ہیں
میری آنکھوں کی ٹھنڈک ہیں
میرے دل کی وہ دھڑکن ہیں

کو ئی اب نہ تو خواہش ہے
نہ کوئی التجا ہی ہے
مجھے سب کچھ میسر ہے
ابھی زندہ ہیں وہ دونوں
وہ دونوں میر ے سب کچھ ہیں

الہی انکو دنیا میں
میری بھی زندگی دید ے
الہی مجھکو جنت میں
وہ گھر ایسا عطا کرنا
میں داخل ہوں تو امی ہوں
اور درواز ے پہ ابو ہوں

میں تمکو کیسے بتلاؤں
جو وقعت انکی میں جانوں
میری چھوٹی سی لائف میں
مجھے انکی ضرورت ہے
کہ جیسے پھول کو خوشبو
کہ جیسے بحر کو پانی
کہ جیسے چاند کو سورج
کہ جو بارش کو بادل کی
کہ جو ساقی کو ساغر کی
کہ جو کشتی کو دریا کی
کہ جو شاعر کو لفظوں کی
کہ جو بیٹے کو ماں کی ہے

خلاصہ یہ کہ بتلاؤں
کہ جو ماں ہے تو سب کچھ ہے
اگر نہ ہو ت میں جیسے
کوئی کاغذ جو کورا ہو
کوئی دریا جو سوکھا ہو
کوئی محفل جو خالی ہو
کوئی آنکھیں جو اندھی ہوں
کوئی گلشن جو بے پودہ

بہت افسوس کرتا ہوں
میں ان لوگوں پہ جو کافر
ہزارہا لعنتیں ان پر
عمر کے درمیاں حصے
میں جب انسان کامل ہو
اسے اعجاز حاصل ہو
زمانہ بھر میں اسکے نام
کا ڈھنڈورا بجتا ہو
وجہ سے اپنی ماں کے وہ
یہاں تک آپہونچتے ہیں
مگر نہ جانے کس دل سے
بھلا دیتے ہیں وہ ماں کو
وہ انکی ساری محنت کا
صلہ اف کیسا دیتے ہیں
کہ غم دل کا مٹا نے کو
فقط آنکھوں میں دو آنسو
قلم بھی روپڑا ہے اب
خدا کے واسطے فیصل
اب آگے کچھ بھی مت کہنا
فقط اتنی دعا کرنا
الہی ہم کو دنیامیں
ہماری ماں کی خدمت کا
ہر ایک موقع عطا کرنا
ادا ہم حق کو کرنے کا
دعوی تو نہیں کرتے
مگر حق کو ادا کرنے کی
جرئات کرتوسکتے ہیں