حمد

محمد اسد اللہ 
حمد و ثنا اسی کی جس نے جہاں بنایا
 مٹّی میں جان ڈالی آرامِ جاں بنایا
 غنچے کھلائے اس نے پھولوں کو تازگی دی
 اظہارِ التجا کو حرف و بیاں بنایا
 پیروں تلے ہمارے ممتا بھری زمیں دی
 مشفق سا اپنے سر پر اک آسماں بنایا
 راہیں اسی کی صنعت سمتیں اسی کی قدرت
 بخشے ہیں ہم قدم بھی اور کارواں بنایا
 بربادیوں رکھ دی امن و اماں کی صورت
 عشرت کدوں کو اس نے عبرت نشاں بنایا
 لفظوں کی ساری دنیا اس کی ثنا سے قاصر
 اک لفظِ کن سے اس نے سارا جہاں بنایا

پوچھو کیوں؟

محمد اسد اللہ 

ڈال پہ بیٹھی اک چڑیا
 گاتی ہے چوں چوں چوں
 پوچھو، پوچھو، پوچھو کیوں؟

باغ میں ہے اک پھول کھلا
 ہرسو سبزہ ہرا بھرا
 جھرنے کا پانی بہتا
 بول رہا ہے کابک میں
 ایک کبوتر غٹرغوں
 پوچھو، پوچھو، پوچھو کیوں؟

مہکی مہکی ہوا چلی
 اٹھلاتی ہے اک تتلی
 نیل گگن میں پتنگ اڑی
 پنکھ پسارے جنگل میں
 مور کرے پیہوں پیہوں
 پوچھو، پوچھو، پوچھو کیوں؟

بوند آسماں سے ٹپکی
 سوندھی سوندھی مہک اٹھی
 بادل میں ہے دھنک تنی
 پچھواڑے گلیارے میں
 کتّا بھونکا بھوں بھوں بھوں
 پوچھو، پوچھو، پوچھو کیوں؟

مالک ڈنڈا برسایا
 کتّا کوئی نیا آیا
 چور کو کوئی دوڑایا
 آج اچانک صبح صبح
 بلّی بولی میاؤں میاؤں میاؤں
 پوچھو، پوچھو، پوچھو کیوں؟

مکّھن دودھ نظر آیا
 پیار سے کوئی سہلایا
 یا پھر بلّا غرّایا!

بابا جانی کروٹ لے کر

ذاکـــر حسین

بابا جانی کروٹ لے کر

ہلکی سی آواز میں بولے

بیٹا کل کیا منگل ہوگا؟؟

گردن موڑے بِن میں بولا

بابا کل تو بُدھ کا دن ہے

بابا جانی سُن نہ پائے

پھر سے پوچھا، کل کیا دن ہے

تھوڑی گردن موڑ کے میں نے

لہجے میں کچھ زہر مِلا کے

منہ کو کان کی سیدھ میں لا کے

دھاڑ کے بولا بُدھ ہے بابا

آنکھوں میں دو موتی چمکے

سُوکھے سے دو ہونٹ بھی لرزے

لہجے میں کچھ شہد ملا کے

بابا بولے بیٹھو بیٹا

چھوڑو دِن کو، دِن ہیں پورے

تم میں میرا حصّہ سُن لو

بچپن کا اِک قصّہ سُن لو

یہی جگہ تھی میں تھا تُم تھے

تُم نے پوچھا، رنگ برنگی

پھولوں پر یہ اُڑنے والی

اس کا نام بتاؤ بابا

گال پہ بوسہ دے کر میں نے

پیار سے بولا تتلی بیٹا

تُم نے پوچھا، کیا ہے بابا؟؟

پھر میں بولا تتلی بیٹا

تتلی تتلی کہتے سُنتے

ایک مہینہ پُورا گزرا،

ایک مہینہ پوچھ کے بیٹا

تتلی کہنا سیکھا تُو نے

ہر اِک نام جو سیکھا تو نے

کِتنی بار وہ پوچھا تو نے

تیرے بھی تو دانت نہیں تھے

میرے بھی اب دانت نہیں ہیں

تیرے پاس تو بابا تھے نا

باتیں کرتے کرتے تُو تو

تھک کے گود میں سو جاتا تھا

تیرے پاس تو بابا تھے نا

میرے پاس تو بیٹا ہے نا

بُوڑھے سے اِس بچے کے بھی

بابا ہوتے سُن بھی لیتے

تیرے پاس تو بابا تھے نا

میرے پاس تو بیٹا ہے نا.
⭕ـــــ ذاکـــر حسین ـــــ⭕
✍🏻✍🏻