دوراھا

دوراھا

جاگ اے نرم نگاہی کے پراسرار سکوت!
آج بیمار پہ یہ رات بہت بھاری ہے
جو خود اپنے ہی سلاسل میں گرفتار رہے
اُن خداؤں سے مرے غم کی دوا کیا ہو گی؟
سوچتے سوچتے تھک جائیں گے نیلے ساگر
جاگتے جاگتے سو جائیں گے مدھم آکاش
اِس چھلکتی ہوئی شبنم کا ذرا سا قطرہ
کسی معصوم سے رخسار پہ جم جائے گا
ایک تارا نظر آئے گا کسی چلمن میں
ایک آنسو کسی بستر پہ بکھر جائے گا
ہاں مگر تیرا یہ بیمار کدھر جائے گا؟
میں نے اک نظم میں لکّھا تھا کہ اے روحِ وفا!
چارہ سازی ترے ناخن کی رہینِ منّت
غمگساری تری پلکوں کی روایات میں ہے
ایک چھوٹی ہی سی امّیدِ طرب زار سہی
ایک جگنو کا اجالا مری برسات میں ہے
لذّتِ عارض و لب، ساعتِ تکمیلِ وصال
میری تقدیر میں ہے اور تری بات میں ہے

دَیر سے، کعبے سے، ادراک سے بھی اُکتا کر
آج تک دل کو اجالے کی طلب ہوتی ہے
ایک دن آئے گا جب اور بھی عریاں ہو کر
آدمی جینے کو تھوڑی سی ضیا مانگے گا
گیت کے، پھول کے، اشعار کے، افسانوں کے
آج تک ہم نے بنائے ہیں کھلونے کتنے
یہ کھلونے بھی نہ ہوتے تو ہمارا بچپن
سوچتا ہوں کہ گزرتا تو گزرتا کیسے؟
آدمی زیست کے سیلاب سے لڑتے لڑتے
بیچ منجدھار میں آتا تو ابھرتا کیسے؟

دیر سے روح پہ اک خوابِ گراں طاری ہے
آج بیمار پہ یہ رات بہت بھاری ہے
آج پھر دوشِ تمنّا پہ ہے دل کا تابوت
جاگ اے نرم نگاہی کے مسیحانہ سکوت!
ورنہ انسان کی فطرت کا تلوّن مت پوچھ
اِس سن و سال کا مغرور لڑکپن مت پوچھ
آدمی تیری اِس افتاد سے بددل ہو کر
اور دو چار خداؤں کے علَم پوجے گا
اور اک روز اِس انداز سے بھی اُکتا کر
اپنے بے نام خیالوں کے صنم پوجے گا

(مصطفیٰ زیدی)

انگڑائی بھی وہ لینے نہ پائے اٹھا کے ہاتھ

انگڑائی بھی وہ لینے نہ پائے اٹھا کے ہاتھ
دیکھا جو مجھ کو چھوڑ دیئے مسکرا کے ہاتھ

بے ساختہ نگاہیں جو آپس میں مل گئیں
کیا منہ پر اس نے رکھ لیے آنکھیں چرا کے ہاتھ

یہ بھی نیا ستم ہے حنا تو لگائیں غیر
اور اس کی داد چاہیں وہ مجھ کو دکھا کے ہاتھ

بے اختیار ہو کے جو میں پاؤں پر گرا
ٹھوڑی کے نیچے اس نے دھرا مسکرا کے ہاتھ

گر دل کو بس میں پائیں تو ناصح تری سنیں
اپنی تو مرگ و زیست ہے اس بے وفا کے ہاتھ

وہ زانوؤں میں سینہ چھپانا سمٹ کے ہائے
اور پھر سنبھالنا وہ دوپٹہ چھڑا کے ہاتھ

قاصد ترے بیاں سے دل ایسا ٹھہر گیا
گویا کسی نے رکھ دیا سینے پہ آ کے ہاتھ

اے دل کچھ اور بات کی رغبت نہ دے مجھے
سننی پڑیں گی سیکڑوں اس کو لگا کے ہاتھ

وہ کچھ کسی کا کہہ کے ستانا سدا مجھے
وہ کھینچ لینا پردے سے اپنا دکھا کے ہاتھ

دیکھا جو کچھ رکا مجھے تو کس تپاک سے
گردن میں میری ڈال دیئے آپ آ کے ہاتھ

پھر کیوں نہ چاک ہو جو ہیں زور آزمائیاں
باندھوں گا پھر دوپٹہ سے اس بے خطا کے ہاتھ

کوچے سے تیرے اٹھیں تو پھر جائیں ہم کہاں
بیٹھے ہیں یاں تو دونوں جہاں سے اٹھا کے ہاتھ

پہچانا پھر تو کیا ہی ندامت ہوئی انہیں
پنڈت سمجھ کے مجھ کو اور اپنا دکھا کے ہاتھ

دینا وہ اس کا ساغر مے یاد ہے نظامؔ
منہ پھیر کر ادھر کو ادھر کو بڑھا کے ہاتھ

حالات کے دھارے پہ سفر چھوڑدیا جائے

ادریس آزاد

حالات کے دھارے پہ سفر چھوڑدیا جائے
دنیا کی ہرِاک بات کا ڈر چھوڑ دیا جائے

مجھ میں ہے خدا میرے ارادے میں نہیں ہے؟
پھر کیسے مناسب ہے کہ شر چھوڑدیا جائے

تقدیر حقیقت کہ ارادہ ہے حقیقت
دِل چھوڑ دیا جائے کہ گھر چھوڑدیاجائے؟

دستور ِ عقیدت ہے عمل سے مترشح
گُل توڑ لیا جائے شجر چھوڑ دیا جائے

میلا سا، کچیلاسا کوئی دوست بناؤں
اب یار ِ طرح دار کا در چھوڑدیا جائے

سوچا ہے کہ اب دِل کے تقاضوں پہ جیا جائے
سیکھا ہوا سب علم و ہنر چھوڑ دیا جائے

شاید ہے اُسے بھائے نہ مری شان ِ صمدی
بہتر ہے کہ دہلیز پہ سر چھوڑ دیا جائے

یہ راہ کسی اور طرف جانے لگی ہے
اس راہ سے اب اور گزر چھوڑ دیا جائے

ادریس آزاد