ہم اٹھ جائیں گے محفل سے تو ان کو جستجو ہوگی

ہم اٹھ جائیں گے محفل سے تو ان کو جستجو ہوگی
ہمارا ذکر آئے گا ، ہماری گفتگو ہوگی

یہ مانا دیکھنے کو وہ زمانہ ہم نہیں ہوں گے
ہمیں ڈھونڈے گی دنیا جب تمہاری جستجو ہوگی

کسی کو خونِ ناحق رائیگاں تو جا نہیں سکتا
وفا کا رُوپ نکھرے گا ، محبت سرخرو ہوگی

تمہارے نام سے پہلے ہمارا نام آئے گا
جہاں عشق و وفا کے سلسلے میں گفتگو ہوگی

بڑا پر لطف ہوگا وہ نیاز و ناز کا عالم
نظارہ تو کرے گا دل ، نظر سے گفتگو ہوگی

فروغِ جلوہ گاہِ ناز اپنی ہی نظر تک ہے
وہاں تک جلوے بھی ہوں گے جہاں تک جستجو ہوگی

تجلی خود بھی پردہ ہے مگر جب دل سے دیکھیں گے
بہر صورت نگاہوں میں وہ صورت ہُو بہ ہُو ہوگی

نظر کا مدعا ، دل کی تمنا کون دیکھے گا
وہ جانِ آرزو ہوگا ، تو کس کو آرزو ہوگی

بکھر جائے گا سب حُسنِ چمن بندی کا شیرازہ
ہوائے سرکشی میں جب فضائے رنگ و بُو ہوگی

ہم اس منہ بولتی بے چارگی پر دم بخود ہوں گے
وہ ہوں گے سامنے بے خود نگاہِ جلوہ جو ہوگی

سلیقہ آتے آتے آیا ہے نظروں سے پینے کا
رشی اب مے کشی بے گانۂ جام و سبُو ہوگی

(رشی پٹیالوی)

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s