وہ دے رہا ہے "دلاسے” تو عمر بھر کے مجھے

وہ دے رہا ہے "دلاسے” تو عمر بھر کے مجھے
بچھڑ نہ جائے کہیں پھر اداس کر کے مجھے

جہاں نہ تو نہ تیری یاد کے قدم ہوں گے
ڈرا رہے ہیں وہی مرحلے سفر کے مجھے

ہوائے دشت مجھے اب تو اجنبی نہ سمجھ!
کہ اب تو بھول گئے راستے بھی گھر کے مجھے

یہ چند اشک بھی تیرے ہیں شامِ غم لیکن
اجالنے ہیں ابھی خال و خد سحر کے مجھے

دلِ تباہ ترے غم کو ٹالنے کیلیے!
سنا رہا ہے فسانے اِدھر اُدھر کے مجھے

قبائے زخم بدن پر سجا کے نکلا ہوں
وہ اب ملا بھی تو دیکھے گا آنکھ بھر کر مجھے

کچھ اس لیے بھی میں اس سے بچھڑ گیا محسن
وہ دور دور سے دیکھے ٹھہر ٹھہر کے مجھے

محسن نقوی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s