انگڑائی بھی وہ لینے نہ پائے اٹھا کے ہاتھ

انگڑائی بھی وہ لینے نہ پائے اٹھا کے ہاتھ
دیکھا جو مجھ کو چھوڑ دیئے مسکرا کے ہاتھ

بے ساختہ نگاہیں جو آپس میں مل گئیں
کیا منہ پر اس نے رکھ لیے آنکھیں چرا کے ہاتھ

یہ بھی نیا ستم ہے حنا تو لگائیں غیر
اور اس کی داد چاہیں وہ مجھ کو دکھا کے ہاتھ

بے اختیار ہو کے جو میں پاؤں پر گرا
ٹھوڑی کے نیچے اس نے دھرا مسکرا کے ہاتھ

گر دل کو بس میں پائیں تو ناصح تری سنیں
اپنی تو مرگ و زیست ہے اس بے وفا کے ہاتھ

وہ زانوؤں میں سینہ چھپانا سمٹ کے ہائے
اور پھر سنبھالنا وہ دوپٹہ چھڑا کے ہاتھ

قاصد ترے بیاں سے دل ایسا ٹھہر گیا
گویا کسی نے رکھ دیا سینے پہ آ کے ہاتھ

اے دل کچھ اور بات کی رغبت نہ دے مجھے
سننی پڑیں گی سیکڑوں اس کو لگا کے ہاتھ

وہ کچھ کسی کا کہہ کے ستانا سدا مجھے
وہ کھینچ لینا پردے سے اپنا دکھا کے ہاتھ

دیکھا جو کچھ رکا مجھے تو کس تپاک سے
گردن میں میری ڈال دیئے آپ آ کے ہاتھ

پھر کیوں نہ چاک ہو جو ہیں زور آزمائیاں
باندھوں گا پھر دوپٹہ سے اس بے خطا کے ہاتھ

کوچے سے تیرے اٹھیں تو پھر جائیں ہم کہاں
بیٹھے ہیں یاں تو دونوں جہاں سے اٹھا کے ہاتھ

پہچانا پھر تو کیا ہی ندامت ہوئی انہیں
پنڈت سمجھ کے مجھ کو اور اپنا دکھا کے ہاتھ

دینا وہ اس کا ساغر مے یاد ہے نظامؔ
منہ پھیر کر ادھر کو ادھر کو بڑھا کے ہاتھ

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s