طالع خوب درخشاں کئے رخسار کا تل

غزل

طالع خوب درخشاں کئے رخسار کا تل

کون لایا ہے نظر باندھنے رخسار کا تل

خامہ فرسائی میں ترقیمِ جمالِ خوباں

ضوفشاں نکتہ وراں دیکھئے رخسار کا تل

چاہِ خنداں میں اترنا ہی کمال فن ہے

پھر گہر تاب سا جو چھانیے رخسار کا تل

دوست پاکیزہ محبت کا تقاضا یہ ہے

حجر اسود کی طرح چومیے رخسار کا تل

ایک نقطے نے کیا خاکہ مکمل ان کا

ہونٹ پرکار بنے ماپتے رخسار کا تل

واقعہ یہ ہے کہ مخمور نگاہی سے ہمیں

ایک عرصہ ہوا چومے ہوئے رخسار کا تل

اشک ریزی نے رخِ تاب کو زرتاب کیا

پاسِ خوباں ہے حیا داریٔ رخسار کا تل

چشمِ حیران کو مبہوت کئے دیتا ہے

اک درخشندہ ستارا لگے رخسار کا تل

آپ کو اوجِ مسرت کے کمالات ملیں

تخلیہ تان کبھی سوچئے رخسار کا تل

ہے بلا خیز طلسمات کا پیکر اصغر

ملگجی شام میں جادو کرے رخسار کا تل

(علی اصغر عباس)

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s