کلیم عاجزکی مشہور غزلیں

غزل

 جہاں غم ملا اٹھایا پھر اسے غزل میں ڈھالا
یہی درد سر خریدا یہی روگ ہم نے پالا

ترے ہاتھ سے ملی ہے مجھے آنسوؤں کی مالا
تری زلف ہو دوگونہ ترا حسن ہو دوبالا

یہ سماں اسے دکھاؤں صبا جا اسے بلا لا
نہ بہار ہے نہ ساقی نہ شراب ہے نہ پیالا

مرے درد کی حقیقت کوئی میرے دل سے پوچھے
یہ چراغ وہ ہے جس سے مرے گھر میں ہے اجالا

اسے انجمن مبارک مجھے فکر و فن مبارک
یہی میرا تخت زریں یہیں میری مرگ چھالا

غزل

 کون عاجزؔ صلۂ تشنہ دہانی مانگے
یہ جہاں آگ اسے دیتا ہے جو پانی مانگے

دل بھی گردن بھی ہتھیلی پہ لئے پھرتا ہوں
جانے کب کس کا لہو تیری جوانی مانگے

توڑیئے مصلحت وقت کی دیواروں کو
راہ جس وقت طبیعت کی روانی مانگے

مانگنا جرم ہے فن کار سے ترتیب خیال
گیسوئے وقت جب آشفتہ بیانی مانگے

ساقی تو چاہے تو وہ دور بھی آ سکتا ہے
کہ ملے جام شراب اس کو جو پانی مانگے

کس کا سینہ ہے جو زخموں سے نہیں ہے معمور
کیا کوئی تجھ سے محبت کی نشانی مانگے

دل تو دے ہی چکا اب ہے یہ ارادہ اپنا
جان بھی دے دوں جو وہ دشمن جانی مانگے

ہیں مرے شیشۂ صہبائے سخن میں دونوں
نئی مانگے کوئی مجھ سے کہ پرانی مانگے

غزل

کس طرح کوئی دھوپ میں پگھلے ہے جلے ہے
یہ بات وہ کیا جانے جو سائے میں پلے ہے

دل درد کی بھٹی میں کئی بار جلے ہے
تب ایک غزل حسن کے سانچے میں ڈھلے ہے

کیا دل ہے کہ اک سانس بھی آرام نہ لے ہے
محفل سے جو نکلے ہے تو خلوت میں جلے ہے

بھولی ہوئی یاد آ کے کلیجے کو ملے ہے
جب شام گزر جائے ہے جب رات ڈھلے ہے

ہاں دیکھ ذرا کیا ترے قدموں کے تلے ہے
ٹھوکر بھی وہ کھائے ہے جو اترا کے چلے ہے

غزل

 کوئے قاتل ہے مگر جانے کو جی چاہے ہے
اب تو کچھ فیصلہ کر جانے کو جی چاہے ہے

لوگ اپنے در و دیوار سے ہوشیار رہیں
آج دیوانے کا گھر جانے کو جی چاہے ہے

درد ایسا ہے کہ جی چاہے ہے زندہ رہئے
زندگی ایسی کہ مر جانے کو جی چاہے ہے

دل کو زخموں کے سوا کچھ نہ دیا پھولوں نے
اب تو کانٹوں میں اتر جانے کو جی چاہے ہے

چھاؤں وعدوں کی ہے بس دھوکا ہی دھوکا اے دل
مت ٹھہر گرچہ ٹھہر جانے کو جی چاہے ہے

زندگی میں ہے وہ الجھن کہ پریشاں ہو کر
زلف کی طرح بکھر جانے کو جی چاہے ہے

قتل کرنے کی ادا بھی حسیں قاتل بھی حسیں
نہ بھی مرنا ہو تو مر جانے کو جی چاہے ہے

جی یہ چاہے ہے کہ پوچھوں کبھی ان زلفوں سے
کیا تمہارا بھی سنور جانے کو جی چاہے ہے؟

رسن و دار ادھر کاکل و رخسار ادھر
دل بتا تیرا کدھر جانے کو جی چاہے ہے

غزل

 میں روؤں ہوں رونا مجھے بھائے ہے
کسی کا بھلا اس میں کیا جائے ہے

دل آئے ہے پھر دل میں درد آئے ہے
یوں ہی بات میں بات بڑھ جائے ہے

کوئی دیر سے ہاتھ پھیلائے ہے
وہ نامہرباں آئے ہے جائے ہے

محبت میں دل جائے گر جائے ہے
جو کھوئے نہیں ہے وہ کیا پائے ہے

جنوں سب اشارے میں کہہ جائے ہے
مگر عقل کو کب سمجھ آئے ہے

پکاروں ہوں لیکن نہ باز آئے ہے
یہ دنیا کہاں ڈوبنے جائے ہے

خموشی میں ہر بات بن جائے ہے
جو بولے ہے دیوانہ کہلائے ہے

قیامت جہاں آئے گی آئے گی
یہاں صبح آئے ہے شام آئے ہے

جنوں ختم دار و رسن پر نہیں
یہ رستہ بہت دور تک جائے ہے

غزل

 میرے ہی لہو پر گزر اوقات کرو ہو
مجھ سے ہی امیروں کی طرح بات کرو ہو

دن ایک ستم ایک ستم رات کرو ہو
وہ دوست ہو دشمن کو بھی تم مات کرو ہو

ہم خاک نشیں تم سخن آرائے سر بام
پاس آ کے ملو دور سے کیا بات کرو ہو

ہم کو جو ملا ہے وہ تمہیں سے تو ملا ہے
ہم اور بھلا دیں تمہیں کیا بات کرو ہو

یوں تو کبھی منہ پھیر کے دیکھو بھی نہیں ہو
جب وقت پڑے ہے تو مدارات کرو ہو

دامن پہ کوئی چھینٹ نہ خنجر پہ کوئی داغ
تم قتل کرو ہو کہ کرامات کرو ہو

بکنے بھی دو عاجزؔ کو جو بولے ہے بکے ہے
دیوانہ ہے دیوانے سے کیا بات کرو ہو

غزل

مرا حال پوچھ کے ہم نشیں مرے سوز دل کو ہوا نہ دے
بس یہی دعا میں کروں ہوں اب کہ یہ غم کسی کو خدا نہ دے

یہ جو زخم دل کو پکائے ہم لئے پھر رہے ہیں چھپائے ہم
کوئی نا شناس مزاج غم کہیں ہاتھ اس کو لگا نہ دے

تو جہاں سے آج ہے نکتہ چیں کبھی مدتوں میں رہا وہیں
میں گدائے راہ گزر نہیں مجھے دور ہی سے صدا نہ دے

تب و تاب عشق کا ہے کرم کہ جمی ہے محفل چشم نم
ذرا دیکھیو اے ہوائے غم یہ چراغ کوئی بجھا نہ دے

وہ جو شاعری کا سبب ہوا وہ معاملہ بھی عجب ہوا
میں غزل سناؤں ہوں اس لئے کہ زمانہ اس کو بھلا نہ دے

غزل

 مری مستی کے افسانے رہیں گے
جہاں گردش میں پیمانے رہیں گے

نکالے جائیں گے اہل محبت
اب اس محفل میں بیگانے رہیں گے

یہی انداز مے نوشی رہے گا
تو یہ شیشے نہ پیمانے رہیں گے

رہے گا سلسلہ دار و رسن کا
جہاں دو چار دیوانے رہیں گے

جنہیں گلشن میں ٹھکرایا گیا ہے
انہی پھولوں کے افسانے رہیں گے

خرد زنجیر پہناتی رہے گی
جو دیوانے ہیں دیوانے رہیں گے

غزل

 مری شاعری میں نہ رقص جام نہ مے کی رنگ فشانیاں
وہی دکھ بھروں کی حکایتیں وہی دل جلوں کی کہانیاں

یہ جو آہ و نالہ و درد ہیں کسی بے وفا کی نشانیاں
یہی میرے دن کے رفیق ہیں یہی میری رات کی رانیاں

یہ مری زباں پہ غزل نہیں میں سنا رہا ہوں کہانیاں
کہ کسی کے عہد شباب پر مٹیں کیسی کیسی جوانیاں

کبھی آنسوؤں کو سکھا گئیں مرے سوز دل کی حرارتیں
کبھی دل کی ناؤ ڈبو گئیں مرے آنسوؤں کی روانیاں

ابھی اس کو اس کی خبر کہاں کہ قدم کہاں ہے نظر کہاں
ابھی مصلحت کا گزر کہاں کہ نئی نئی ہیں جوانیاں

یہ بیان حال یہ گفتگو ہے مرا نچوڑا ہوا لہو
ابھی سن لو مجھ سے کہ پھر کبھو نہ سنو گے ایسی کہانیاں

غزل

 مری صبح غم بلا سے کبھی شام تک نہ پہنچے
مجھے ڈر یہ ہے برائی ترے نام تک نہ پہنچے

مرے پاس کیا وہ آتے مرا درد کیا مٹاتے
مرا حال دیکھنے کو لب بام تک نہ پہنچے

ہو کسی کا مجھ پہ احساں یہ نہیں پسند مجھ کو
تری صبح کی تجلی مری شام تک نہ پہنچے

تری بے رخی پہ ظالم مرا جی یہ چاہتا ہے
کہ وفا کا میرے لب پر کبھی نام تک نہ پہنچے

میں فغان بے اثر کا کبھی معترف نہیں ہوں
وہ صدا ہی کیا جو ان کے در و بام تک نہ پہنچے

وہ صنم بگڑ کے مجھ سے مرا کیا بگاڑ لے گا
کبھی راز کھول دوں میں تو سلام تک نہ پہنچے

مجھے لذت اسیری کا سبق پڑھا رہے ہیں
جو نکل کے آشیاں سے کبھی دام تک نہ پہنچے

انہیں مہرباں سمجھ لیں مجھے کیا غرض پڑی ہے
وہ کرم کا ہاتھ ہی کیا جو عوام تک نہ پہنچے

ہوئے فیض مے کدہ سے سبھی فیضیاب لیکن
جو غریب تشنہ لب تھے وہی جام تک نہ پہنچے

جسے میں نے جگمگایا اسی انجمن میں ساقی
مرا ذکر تک نہ آئے مرا نام تک نہ پہنچے

تمہیں یاد ہی نہ آؤں یہ ہے اور بات ورنہ
میں نہیں ہوں دور اتنا کہ سلام تک نہ پہنچے

غزل

 منہ فقیروں سے نہ پھیرا چاہیئے
یہ تو پوچھا چاہیئے کیا چاہیئے

چاہ کا معیار اونچا چاہیئے
جو نہ چاہیں ان کو چاہا چاہیئے

کون چاہے ہے کسی کو بے غرض
چاہنے والوں سے بھاگا چاہیئے

ہم تو کچھ چاہے ہیں تم چاہو ہو کچھ
وقت کیا چاہے ہے دیکھا چاہیئے

چاہتے ہیں تیرے ہی دامن کی خیر
ہم ہیں دیوانے ہمیں کیا چاہیئے

بے رخی بھی ناز بھی انداز بھی
چاہیئے لیکن نہ اتنا چاہیئے

ہم جو کہنا چاہتے ہیں کیا کہیں
آپ کہہ لیجے جو کہنا چاہیئے

بات چاہے بے سلیقہ ہو کلیمؔ
بات کہنے کا سلیقہ چاہیئے

غزل

 مجھے اس کا کوئی گلہ نہیں کہ بہار نے مجھے کیا دیا
تری آرزو تو نکال دی ترا حوصلہ تو بڑھا دیا

گو ستم نے تیرے ہر اک طرح مجھے ناامید بنا دیا
یہ مری وفا کا کمال ہے کہ نباہ کر کے دکھا دیا

کوئی بزم ہو کوئی انجمن یہ شعار اپنا قدیم ہے
جہاں روشنی کی کمی ملی وہیں اک چراغ جلا دیا

تجھے اب بھی میرے خلوص کا نہ یقین آئے تو کیا کروں
تیرے گیسوؤں کو سنوار کر تجھے آئنہ بھی دکھا دیا

میری شاعری میں ترے سوا کوئی ماجرا ہی نہ مدعا
جو تری نظر کا فسانہ تھا وہ مری غزل نے سنا دیا

یہ غریب عاجزؔ بے وطن یہ غبار خاطر انجمن
یہ خراب جس کے لئے ہوا اسی بے وفا نے بھلا دیا

غزل

 نظر کو آئنہ دل کو ترا شانہ بنا دیں گے
تجھے ہم کیا سے کیا اے زلف جانانہ بنا دیں گے

ہمیں اچھا ہے بن جائیں سراپا سرگزشت اپنی
نہیں تو لوگ جو چاہیں گے افسانہ بنا دیں گے

امید ایسی نہ تھی محفل کے ارباب بصیرت سے
گناہ شمع کو بھی جرم پروانہ بنا دیں گے

ہمیں تو فکر دل سازی کی ہے دل ہے تو دنیا ہے
صنم پہلے بنا دیں پھر صنم خانہ بنا دیں گے

نہ اتنا چھیڑ کر اے وقت دیوانہ بنا ہم کو
ہوئے دیوانے ہم تو سب کو دیوانہ بنا دیں گے

نہ جانے کتنے دل بن جائیں گے اک دل کے ٹکڑے سے
وہ توڑیں آئینہ ہم آئینہ خانہ بنا دیں گے

غزل

 قائم ہے سرور مئے گلفام ہمارا
کیا غم ہے اگر ٹوٹ گیا جام ہمارا

اتنا بھی کسی دوست کا دشمن نہ ہو کوئی
تکلیف ہے ان کے لیے آرام ہمارا

پھولوں سے محبت ہے تقاضائے طبیعت
کانٹوں سے الجھنا تو نہیں کام ہمارا

بھولے سے کوئی نام وفا کا نہیں لیتا
دنیا کو ابھی یاد ہے انجام ہمارا

غیر آ کے بنے ہیں سبب رونق محفل
اب آپ کی محفل میں ہے کیا کام ہمارا

موسم کے بدلتے ہی بدل جاتی ہیں آنکھیں
یاران چمن بھول گئے نام ہمارا

غزل

 سینے کے زخم پاؤں کے چھالے کہاں گئے
اے حسن تیرے چاہنے والے کہاں گئے؟

شانوں کو چھین چھین کے پھینکا گیا کہاں
آئینے توڑ پھوڑ کے ڈالے کہاں گئے؟

خلوت میں روشنی ہے نہ محفل میں روشنی
اہل وفا چراغ وفا لے کہاں گئے؟

بت خانے میں بھی ڈھیر ہیں ٹکڑے حرم میں بھی
جام و سبو کہاں تھے اچھالے کہاں گئے

آنکھوں سے آنسوؤں کو ملی خاک میں جگہ
پالے کہاں گئے تھے نکالے کہاں گئے

برباد روزگار ہمارا ہی نام ہے
آئیں تماشا دیکھنے والے کہاں گئے؟

چھپتے گئے دلوں میں وہ بن کر غزل کے بول
میں ڈھونڈھتا رہا مرے نالے کہاں گئے

اٹھتے ہوؤں کو سب نے سہارا دیا کلیمؔ
گرتے ہوئے غریب سنبھالے کہاں گئے

غزل

 تلخیاں اس میں بہت کچھ ہیں مزا کچھ بھی نہیں
زندگی درد محبت کے سوا کچھ بھی نہیں

شمع خاموش بھی رہتے ہوئے خاموش کہاں
اس طرح کہہ دیا سب کچھ کہ کہا کچھ بھی نہیں

ہم گدایان محبت کا یہی سب کچھ ہے
گرچہ دنیا یہی کہتی ہے وفا کچھ بھی نہیں

یہ نیا طرز کرم ہے ترا اے فصل بہار
لے لیا پاس میں جو کچھ تھا دیا کچھ بھی نہیں

ہم کو معلوم نہ تھا پہلے یہ آئین جہاں
اس کو دیتے ہیں سزا جس کی خطا کچھ بھی نہیں

وہی آہیں وہی آنسو کے دو قطرے عاجزؔ
کیا تری شاعری میں ان کے سوا کچھ بھی نہیں

غزل

 تجھے کلیمؔ کوئی کیسے خوش کلام کہے
جو دن کو رات بتائے سحر کو شام کہے

پئے بغیر کہو تو یہ تشنہ کام کہے
وہ راز مے جو صراحی کہے نہ جام کہے

نہ جانے روٹھ کے بیٹھا ہے دل کا چین کہاں
ملے تو اس کو ہمارا کوئی سلام کہے

کہوں جو برہمن و شیخ سے حقیقت عشق
خدا خدا یہ پکارے وہ رام رام کہے

میں غم کی راگنی بے وقت بھی اگر چھیڑوں
زبان وقت مجھے وقت کا امام کہے

غزل

 تجھے سنگ دل یہ پتہ ہے کیا کہ دکھے دلوں کی صدا ہے کیا
کبھی چوٹ تو نے بھی کھائی ہے کبھی تیرا دل بھی دکھا ہے کیا؟

تو رئیس شہر ستم گراں میں گدائے کوچۂ عاشقاں
تو امیر ہے تو بتا مجھے میں غریب ہوں تو برا ہے کیا

تو جفا میں مست ہے روز و شب میں کفن بہ دوش غزل بہ لب
ترے رعب حسن سے چپ ہیں سب میں بھی چپ رہوں تو مزا ہے کیا

یہ کہاں سے آئی ہے سرخ رو ہے ہر ایک جھونکا لہو لہو
کٹی جس میں گردن آرزو یہ اسی چمن کی ہوا ہے کیا

غزل

 انہیں فریاد نازیبا لگے ہے
ستم کرتے بہت اچھا لگے ہے

خدا اس بزم میں حافظ ہے دل کا
یہاں ہر روز اک چرکا لگے ہے

انہیں اپنے بھی لگتے ہیں پرائے
پرایا بھی ہمیں اپنا لگے ہے

بغیر اس بے وفا سے جی لگائے
جو سچ پوچھو تو جی کس کا لگے ہے

محبت دل لگی جانو ہو پیارے
وہی جانے ہے دل جس کا لگے ہے

اٹھا آگے سے ساقی جام و مینا
دل اچھا ہو تو سب اچھا لگے ہے

ذرا دیکھ آئنہ میری وفا کا
کہ تو کیسا تھا اب کیسا لگے ہے

غزل سن کر مری کہنے لگے وہ
مجھے یہ شخص دیوانہ لگے ہے

ضرور آیا کرو جلسے میں عاجزؔ
نہ آؤ ہو تو سناٹا لگے ہے

غزل

 وقت کے در پر بھی ہے بہت کچھ وقت کے در سے آگے بھی
شام و سحر کے ساتھ بھی چلئے شام و سحر سے آگے بھی

عقل و خرد کے ہنگاموں میں شوق کا دامن چھوٹ نہ جائے
شوق بشر کو لے جاتا ہے عقل بشر سے آگے بھی

دار و رسن کی ریشہ داوانی گردن و سر تک رہتی ہے
اہل جنوں کا پاؤں رہا ہے گردن و سر سے آگے بھی

میرے گھر کو آگ لگا کر ہم سایوں کو ہنسنے دو
شعلے بڑھ کر جا پہنچیں گے میرے گھر سے آگے بھی

عشق نے راہ وفا سمجھائی سمجھانے کے بعد کہا
وقت پڑا تو جانا ہوگا راہ گزر سے آگے بھی

شاعر فکر و نظر کا مالک دل کا سلطاں گھر کا فقیر
دنیا کا پامال قدم بھی دنیا بھر سے آگے بھی

آنکھیں جو کچھ دیکھ رہی ہیں اس سے دھوکا کھائیں کیا
دل تو عاجزؔ دیکھ رہا ہے حد نظر سے آگے بھی

غزل

 وہ ستم نہ ڈھائے تو کیا کرے اسے کیا خبر کہ وفا ہے کیا؟
تو اسی کو پیار کرے ہے کیوں یہ کلیمؔ تجھ کو ہوا ہے کیا؟

تجھے سنگ دل یہ پتہ ہے کیا کہ دکھے دلوں کی صدا ہے کیا؟
کبھی چوٹ تو نے بھی کھائی ہے کبھی تیرا دل بھی دکھا ہے کیا؟

تو رئیس شہر ستم گراں میں گدائے کوچۂ عاشقاں
تو امیر ہے تو بتا مجھے میں غریب ہوں تو برا ہے کیا؟

تو جفا میں مست ہے روز و شب میں کفن بہ دوش و غزل بہ لب
ترے رعب حسن سے چپ ہیں سب میں بھی چپ رہوں تو مزا ہے کیا؟

یہ کہاں سے آئی ہے سرخ رو ہے ہر ایک جھونکا لہو لہو
کٹی جس میں گردن آرزو یہ اسی چمن کی ہوا ہے کیا؟

ابھی تیرا دور شباب ہے ابھی کیا حساب و کتاب ہے
ابھی کیا نہ ہوگا جہان میں ابھی اس جہاں میں ہوا ہے کیا؟

یہی ہم نوا یہی ہم سخن یہی ہم نشاں یہی ہم وطن
مری شاعری ہی بتائے گی مرا نام کیا ہے پتہ ہے کیا؟

غزل

 یہ آنسو بے سبب جاری نہیں ہے
مجھے رونے کی بیماری نہیں ہے

نہ پوچھو زخم ہائے دل کا عالم
چمن میں ایسی گل کاری نہیں ہے

بہت دشوار سمجھانا ہے غم کا
سمجھ لینے میں دشواری نہیں ہے

غزل ہی گنگنانے دو کہ مجھ کو
مزاج تلخ گفتاری نہیں ہے

چمن میں کیوں چلوں کانٹوں سے بچ کر
یہ آئین وفاداری نہیں ہے

وہ آئیں قتل کو جس روز چاہیں
یہاں کس روز تیاری نہیں ہے

غزل

یہ دیوانے کبھی پابندیوں کا غم نہیں لیں گے
گریباں چاک جب تک کر نہ لیں گے دم نہیں لیں گے

لہو دیں گے تو لیں گے پیار موتی ہم نہیں لیں گے
ہمیں پھولوں کے بدلے پھول دو شبنم نہیں لیں گے

یہ غم کس نے دیا ہے پوچھ مت اے ہم نشیں ہم سے
زمانہ لے رہا ہے نام اس کا ہم نہیں لیں گے

محبت کرنے والے بھی عجب خوددار ہوتے ہیں
جگر پر زخم لیں گے زخم پر مرہم نہیں لیں گے

غم دل ہی کے ماروں کو غم ایام بھی دے دو
غم اتنا لینے والے کیا اب اتنا غم نہیں لیں گے

سنوارے جا رہے ہیں ہم الجھتی جاتی ہیں زلفیں
تم اپنے ذمہ لو اب یہ بکھیڑا ہم نہیں لیں گے

شکایت ان سے کرنا گو مصیبت مول لینا ہے
مگر عاجزؔ غزل ہم بے سنائے دم نہیں لیں گے

غزل

 یہ سمندر ہے کنارے ہی کنارے جاؤ
عشق ہر شخص کے بس کا نہیں پیارے جاؤ

یوں تو مقتل میں تماشائی بہت آتے ہیں
آؤ اس وقت کہ جس وقت پکارے جاؤ

دل کی بازی لگے پھر جان کی بازی لگ جائے
عشق میں ہار کے بیٹھو نہیں ہارے جاؤ

کام بن جائے اگر زلف جنوں بن جائے
اس لیے اس کو سنوارو کہ سنوارے جاؤ

کوئی رستہ کوئی منزل اسے دشوار نہیں
جس جگہ چاہو محبت کے سہارے جاؤ

ہم تو مٹی سے اگائیں گے محبت کے گلاب
تم اگر توڑنے جاتے ہو ستارے جاؤ

ڈوبنا ہوگا اگر ڈوبنا تقدیر میں ہے
چاہے کشتی پہ رہو چاہے کنارے جاؤ

تم ہی سوچو بھلا یہ شوق کوئی شوق ہوا
آج اونچائی پہ بیٹھو کل اتارے جاؤ

موت سے کھیل کے کرتے ہو محبت عاجزؔ
مجھ کو ڈر ہے کہیں بے موت نہ مارے جاؤ

غزل 

 زخموں کے نئے پھول کھلانے کے لئے آ
پھر موسم گل یاد دلانے کے لئے آ

مستی لئے آنکھوں میں بکھیرے ہوئے زلفیں
آ پھر مجھے دیوانہ بنانے کے لئے آ

اب لطف اسی میں ہے مزا ہے تو اسی میں
آ اے مرے محبوب ستانے کے لئے آ

آ رکھ دہن زخم پہ پھر انگلیاں اپنی
دل بانسری تیری ہے بجانے کے لئے آ

ہاں کچھ بھی تو دیرینہ محبت کا بھرم رکھ
دل سے نہ آ دنیا کو دکھانے کے لئے آ

مانا کہ مرے گھر سے عداوت ہی تجھے ہے
رہنے کو نہ آ آگ لگانے کے لئے آ

پیارے تری صورت سے بھی اچھی ہے جو تصویر
میں نے تجھے رکھی ہے دکھانے کے لئے، آ

آشفتہ کہے ہے کوئی دیوانہ کہے ہے
میں کون ہوں دنیا کو بتانے کے لئے آ

کچھ روز سے ہم شہر میں رسوا نہ ہوئے ہیں
آ پھر کوئی الزام لگانے کے لئے آ

اب کے جو وہ آ جائے تو عاجزؔ اسے لے کر
محفل میں غزل اپنی سنانے کے لئے آ

غزل 

 زندگی مائل فریاد و فغاں آج بھی ہے
کل بھی تھا سینے پہ اک سنگ گراں آج بھی ہے

دل افسردہ کو پہلو میں لئے بیٹھے ہیں
بزم میں مجمع خستہ جگراں آج بھی ہے

تلخیٔ کوہ کنی کل بھی مرا حصہ تھا
جام شیریں بہ نصیب دیگراں آج بھی ہے

زخم دل کے نہیں آثار بظاہر لیکن
چارہ گر سے گلۂ درد نہاں آج بھی ہے

آج بھی گرم ہے بازار جفا کاروں کا
کل بھی آراستہ تھی ان کی دکاں آج بھی ہے

گوشۂ امن نہیں آج بھی بلبل کو نصیب
چشم صیاد بہر سو نگراں آج بھی ہے

آج بھی زخم رگ گل سے ٹپکتا ہے لہو
خوں میں ڈوبی ہوئی کانٹوں کی زباں آج بھی ہے

زندگی چونک کے بیدار ہوئی ہے لیکن
چشم و دل پر اثر خواب گراں آج بھی ہے

اس طرف جنس وفا کی وہی ارزانی ہے
اس طرف اک نگہ لطف گراں آج بھی ہے

حیف کیوں قسمت شاعر پہ نہ آئے عاجزؔ
کل بھی کمبخت رہا مرثیہ خواں آج بھی ہے

خالی خالی رستوں پہ بے کراں اداسی ہے

ثروت زہرا

خالی خالی رستوں پہ بے کراں اداسی ہے
جسم کے تماشے میں روح پیاسی پیاسی ہے

خواب اور تمنا کا کیا حساب رکھنا ہے
خواہشیں ہیں صدیوں کی عمر تو ذرا سی ہے

راہ و رسم رکھنے کے بعد ہم نے جانا ہے
وہ جو آشنائی تھی وہ تو ناشناسی ہے

ہم کسی نئے دن کا انتظار کرتے ہیں
دن پرانے سورج کا، شام باسی باسی ہے

دیکھ کر تمہیں کوئی کس طرح سنبھل پائے
سب حواس جاگے ہیں ایسی بدحواسی ہے

زخم کے چھپانے کو ہم لباس لائے تھے
شہر بھر کا کہنا ہے ” یہ تو خوں لباسی ہے "

(ثروت زہرا)

ہم تو خوش تھے کہ چلو دل کا جنوں کچھ کم ہے

ہم تو خوش تھے کہ چلو دل کا جنوں کچھ کم ہے

اب جو آرام بہت ہے تو سکوں کچھ کم ہے

رنگ گریہ نے دکھائی نہیں اگلی سی بہار

اب کے لگتا ہے کہ آمیزش خوں کچھ کم ہے

اب ترا ہجر مسلسل ہے تو یہ بھید کھلا

غم دل سے غم دنیا کا فسوں کچھ کم ہے

اس نے دکھ سارے زمانے کا مجھے بخش دیا

پھر بھی لالچ کا تقاضا ہے کہوں، کچھ کم ہے

راہ دنیا سے نہیں دل کی گزر گاہ سے آ

فاصلہ گرچہ زیادہ ہے پہ یوں کچھ کم ہے

تو نے دیکھا ہی نہیں مجھ کو بھلے وقتوں میں

یہ خرابی کہ میں جس حال میں ہوں کچھ کم ہے

آگ ہی آگ مرے قریۂ تن میں ہے فرازؔ

پھر بھی لگتا ہے ابھی سوز دروں کچھ کم ہے

 

دیدار کی ہوس ہے نہ شوق وصال ہے

جلیلؔ مانک پوری

دیدار کی ہوس ہے نہ شوق وصال ہے

آزاد ہر خیال سے مست خیال ہے

کہہ دو یہ کوہ کن سے کہ مرنا نہیں کمال

مر مر کے ہجر یار میں جینا کمال ہے

فتویٰ دیا ہے مفتیٔ ابر بہار نے

توبہ کا خون بادہ کشوں کو حلال ہے

آنکھیں بتا رہی ہیں کہ جاگے ہو رات کو

ان ساغروں میں بوئے شراب وصال ہے

برساؤ تیر مجھ پہ مگر اتنا جان لو

پہلو میں دل ہے دل میں تمہارا خیال ہے

آنکھیں لڑا کے ان سے ہم آفت میں پڑ گئے

پلکوں کی ہر زبان پہ دل کا سوال ہے

بت کہہ دیا جو میں نے تو اب بولتے نہیں

اتنی سی بات کا تمہیں اتنا خیال ہے

میں دامن نیاز میں اشک چکیدہ ہوں

کوئی اٹھا کے دیکھ لے اٹھنا محال ہے

پوچھا جو ان سے جانتے ہو تم جلیلؔ کو

بولے کہ ہاں وہ شاعر نازک خیال ہے

 

لب پر کسی کا بھی ہو، دل میں تیرا نقشا ہے

ابنِ انشاء

لب پر کسی کا بھی ہو، دل میں تیرا نقشا ہے
اے تصویر بنانے والی، جب سے تجھ کو دیکھا ہے

بے ترے کیا وحشت ہم کو، تجھ بن کیسا صبر و سکوں
تو ہی اپنا شہر ہے جانی تو ہی اپنا صحرا ہے

نیلے پربت، اودی دھرتی، چاروں کوٹ میں تو ہی تو
تجھ سے اپنے جی خلوت، تجھ سے من کا میلا ہے

آج تو ہم بکنے کو آئے، آج ہمارے دام لگا
یوسف تو بازار وفا میں ایک ٹکے کو بکتا ہے

لے جانی اب اپنے من کے پیراہن کی گرہیں کھول
لے جانی اب آدھی شب ہے چار طرف سناٹا ہے

طوفانوں کی بات نہیں ہے، طوفاں آتے جاتے ہیں
تو اک نرم ہوا کا جھونکا، دل کے باغ میں ٹھہرا ہے

یا تو آج ہمیں اپنا لے یا تو آج ہمارا بن
دیکھ کہ وقت گزرتا جائے، کون ابد تک جیتا ہے

فردا محض فسوں کا پردا، ہم تو آج کے بندے ہیں
ہجر و وصل وفا اور دھوکا سب کچھ آج پہ رکھتا ہے