دل میں خیالِ نرگسِ جانانہ آگیا

اختر شیرانی

دل میں خیالِ نرگسِ جانانہ آگیا
پھولوں سے کھیلتا ہوا دیوانہ آ گیا

بادل کے اُٹھتے ہی مے و پیمانہ آ گیا
بجلی کے ساتھ ساتھ پری خانہ آ گیا

مستوں نے اِس ادا سے کیا رقصِ نو بہار
پیمانہ کیا کہ وجد میں مے خانہ آ گیا

اُس چشمِ مے فروش کی تاثیر کیا کہوں
آنکھوں تک آج آپ ہی پیمانہ آگیا

معلوم کِس کو قیس کی دیوانگی کی شان
ہنگامہ سا بپا ہے کہ دیوانہ آ گیا

اختر، غضب تھی عہد جوانی کی داستاں
آنکھوں کے آگے ایک پری خانہ آگیا

اختر شیرانی

بے وفا کو عبث اِلزامِ جفا دینا تھا
ہم ہی بُھولے کہ تجھے دل سے بُھلا دینا تھا

حُسن و اُلفت میں نہیں تفرقہ فرد و دُوئی
جذب کامل کو یہ پردہ بھی اُٹھا دینا تھا

مُبتلا ہو کے ترے عشق کی سر مستی میں
دل سے نقشِ غمِ ہستی کو مِٹا دینا تھا

رسمِ فرہاد ہے دنیا میں ابھی تک زندہ
یہ تماشا بھی کبھی اُن کو دِکھا دینا تھا

ہو کے ناکام ہَوِس کار بنے کیوں اختر
یاد سلمیٰ میں جوانی کو گَنوا دینا تھا

دلِ مہجُور کو تسکین کا ساماں نہ ملا

اختر شیرانی

دلِ مہجُور کو تسکین کا ساماں نہ ملا
شہرِ جاناں میں ہمیں مسکنِ جاناں نہ ملا

کُوچہ گردی میں کٹیں شوق کی کتنی راتیں
پھر بھی اُس شمعِ تمنّا کا شبستاں نہ ملا

پوچھتے منزلِ سلمیٰ کی خبر ہم جس سے
وادیِ نجد میں ایسا کوئی اِنساں نہ ملا

یوں تو ہر راہ گزر پر تھے ستارے رقصاں
جِس کی حسرت تھی مگر وہ مہِ تاباں نہ ملا

لالہ و گُل تھے بہت عام چمن میں لیکن
ڈھونڈتے تھے جسے وہ سرو خراماں نہ ملا

جس کے پردوں سے مچلتی ہو وہی نِکہتِ شوق
بے خُودی کی قسم ایسا کوئی ایواں نہ ملا

بخت بیدار کہاں، جلوۂ دلدار کہاں
خواب میں بھی ہمیں وہ غنچۂ خنداں نہ ملا

بے کسی، تشنہ لبی، دردِ حلاوت طلبی
چاندنی رات میں بھی چشمۂ حیواں نہ ملا

یوں تو ہر در پہ لہکتے نظر آئے دامن
کھینچتے ناز سے جس کو وہی داماں نہ ملا

کِس کے در پر نہ کیے سجدے نگاہوں نے مگر
ہائے تقدیر وہ غارت گرِ ایماں نہ ملا

کون سے بام کو رہ رہ کے نہ دیکھا لیکن
نگہِ شوق کو وہ ماہِ خراماں نہ ملا

درِ جاناں پہ فدا کرتے دل و جاں اختر
وائے بر حالِ دل و جاں، درِ جاناں نہ ملا

دلِ شکستہ، حریفِ شباب ہو نہ سکا

اختر شیرانی

دلِ شکستہ، حریفِ شباب ہو نہ سکا
یہ جامِ ظرف نواز شراب ہو نہ سکا

کچھ ایسے رحم کے قابل تھے ابتدا ہی سے ہم
کہ اُن سے بھی ستمِ بے حساب ہو نہ سکا

نظر نہ آیا کبھی شب کو اُن کا جلوۂ رُخ
یہ آفتاب کبھی ماہتاب ہو نہ سکا

نگاہِ فیض سے محروم، برتری معلوم
ستارہ چمکا مگر آفتاب ہو نہ سکا

ہے جام خالی تو پھیکی ہے چاندنی کیسی
یہ سیلِ نُور، سِتم ہے شراب ہو نہ سکا

یہ مے چھلک کے بھی اُس حُسن کو پہنچ نہ سکی
یہ پھول کِھل کے بھی اُس کا شباب ہو نہ سکا

کسی کی شوخ نوائی کا ہوش تھا کس کو
میں ناتواں تو حریفِ خطاب ہو نہ سکا

ہُوں تیرے وصل سے مایوس اِس قدر گویا
کبھی جہاں میں کو ئی کامیاب ہو نہ سکا

وہ پوچھتے ہیں ترے دل کی آرزو کیا ہے
یہ خواب ہائے کبھی میرا خواب ہو نہ سکا

تلاشِ معنیِ ہستی میں فلسفہ نہ برَت
یہ راز آج تلک بے حجاب ہو نہ سکا

شرابِ عشق میں ایسی کشش سی تھی اختر
کہ لاکھ ضبط کیا اِجتناب ہو نہ سکا

مستانہ پیے جا، یونہی مستانہ پیے جا

اختر شیرانی

مستانہ پیے جا، یونہی مستانہ پیے جا
پیمانہ تو کیا چیز ہے، میخانہ پیے جا

کر غرق مئے و جام، غمِ گردشِ ایّام
ہاں اے دلِ ناکام حکیمانہ پیے جا

مے نوشی کے آداب سے آگاہ نہیں تُو
جس طرح کہے ساقیِ مے خانہ پیے جا

کشکول ہو یا ساغرِ جَم، نشّہ ہے یکساں
شاہانہ پیے جا کہ فقیرانہ پیے جا

اِس مَکر کی بستی میں ہے مستی ہی سے ہستی
دیوانہ بن اور با دلِ دیوانہ پیے جا

ہر جام میں رقصاں ہے پری خانۂ مستی
آنکھوں سے لگا کر یہ پری خانہ پیے جا

مے خانے کے ہنگامے ہیں کچھ دیر کے مہماں
ہے صبح قریب اخترِ دیوانہ پیے جا