اردو اور فارسی شاعری میں لونڈے کا تصور*

از: اوریا مقبول جان
————————————————–
”میر تقی میرؔ سے لے کر فراقؔ گھورکھپوری تک سب کے ادبی محاسن اور لونڈوں سے محبت کے انداز کو جس خوبصورتی کے ساتھ نقادوں نے سراہا اور جس طرح انھیں معاشرے میں عزت و تکریم کے مقام پر فائز کیا، اس سے ہماری پستی اور زوال کی تصویر نمایاں ہوتی ہے۔ الطاف حسین حالی نے جب مسدس لکھی تو انھی شعرا ء کے بارے میں کہا تھا ”جہنم کو بھر دیں گے شاعر ہمارے“ …کیا حیرت انگیز دعویٰ ہے استاذ الشعراء میر تقی میرؔ کا۔
ترک بچے سے عشق کیا تھا ریختے کیا کیا ہم نے کہے
رفتہ رفتہ ہندوستان سے شعر مرا ایران گیا
ادب کے اس عظیم سپوت نے چھ دیوانوں میں 13,590 اشعار تحریر کیے جن میں 86 فیصد شعروں میں معشوق کی جنس مرد ہے، لونڈا، طفل یا نونہال۔ یہ اشعار فحش گوئی اور امرد پرستی کے نمونے ہیں۔ نمونے بھی ایسے کہ انھیں نقل کرنے کی ہمت نہیں ہوتی۔ لڑکے یا لونڈے کے حسن کے قصے اور طرحداریوں کے افسانے اس کے خال و خد سے لے کر عشوہ طرازیوں تک چلے جاتے ہیں۔ چہرے پر ہلکے ہلکے روئیں آنے کو خط آنا کہتے ہیں۔ اس کو بھی ان شاعرانِ عظیم نے سو طرح کے مضمون سے باندھا ہے۔
وہ جو عالم اس کے اوپر تھا وہ خط نے کھو دیا
مبتلا ہے اِس بلا میں میرؔ اک عالم ہنوز
اور اب اسیرؔ اسی خط کے آنے کو ایک اور طریقے سے بیان کرتا ہے
خط نمودار ہوا، وصل کی راتیں آئیں
جن کا اندیشہ تھا منہ پر وہی باتیں آئیں
یوں تو یہ وبا برصغیر پاک و ہند میں ایران سے آئی، بلکہ نقاد جنہوں نے عربی ادب کا مطالعہ کیا، وہ بھی کہتے ہیں کہ ایران ہی سے لونڈوں سے عشق کے مضامین عرب شاعری میں داخل ہوئے۔ حافظ کا مشہور شعر تو ہر کوئی کس لذت سے سناتا ہے
اگر آں ترکِ شیرازی، بدست آرد دلِ مارا
بخالِ ہندوش بخشم سمر قند و بخارا را
(اگر وہ شیراز کا ترک لڑکا مجھے مل جائے تو میں اس کی گال کے تِل کے بدلے سمر قند اور بخارا کے شہر اسے بخش دوں)۔ یوں لگتا ہے شاعری میں لطف و کمال اور ذوقِ جمال اسی ایک شوق کے گرد گھومتا تھا۔ ان شعراء کی ذاتی زندگی کے قصوں میں بھی اس شوق کی جھلک نظر آتی ہے۔ جوشؔ ملیح آبادی نے کس فخر کے ساتھ لڑکوں سے اپنے معاشقوں کا ذکر کیا۔ ان شعراء کی محفل میں ایک نوجوان شاعر ساغر نظامی آ نکلا، خوبصورت تھا، کیا کیا قصے اس کے ساتھ مشہور نہیں ہوئے۔ سیماب اکبر آبادی کا یہ مصرعہ تو ادبی تاریخ کے منہ پر غلیظ طمانچہ ہے”ساغر کی تہہ میں قطرۂ سیماب رہ گیا“۔ فراقؔ گھورکھپوری کہ جس کی انھی حرکتوں کی وجہ سے اس کے بیٹے نے خود کشی کر لی تھی کہ اس کا باپ اس کے دوستوں سے بھی باز نہ آتا تھا۔ ہوس زدگی کا وہی عالم جو میر تقی میرؔ میں تھا کہ
وے نہیں تو انھوں کا بھائی اور
عشق کرنے کی کیا مناہی ہے
”ہندو لڑکے سے کیا معیشت ہو“ سے لے کر ” یہ نرم شانہ لڑکے ہیں مخمل دوخابہ ـــ“ اور پھر ” اسی عطار کے لونڈے سے دوا لیتے ہیں“ جیسے نسبتاً کم فحش مصرعوں کو ہی اگر اردو شاعری میں چھانٹا جائے تو یوں لگتا ہے کہ ہمارے اردگرد ایک ایسا ماحول آباد تھا اور ہے جو اسقدر بیمار ہے جس میں ہیرو وہ ہے جو اپنے ساتھ ایک لڑکا معشوق لیے پھرتا ہے یا جس نے اپنی مردانگی کے زیرِاثر شہر کے خوبرو لڑکوں کو اپنے قابو میں رکھا ہوا ہے۔ وہ ان سے دھونس اور زبردستی سے بھی اپنی ہوس پوری کرتا ہے اور ان کے ناز نخرے اور خرچہ اٹھا کر بھی۔ ایسا کردار سعادت حسن منٹو کے دودا پہلوان میں بھی آ کر اجاگر ہوتا ہے اور وہ اسے کیسے ایک سچے عاشق کے طور پر پیش کرتا ہے۔“ اب عالم بننے کے لیے کیا ایسا ذوق پیدا کرنا ہو گا؟

زُلف: گھٹا ، جال ، جادُو ، جنگ ، جلال

زُلف: گھٹا ، جال ، جادُو ، جنگ ، جلال
فُسُوں ، شباب ، شکارَن ، شراب ، رات گھنی

جبیں: چراغ ، مقدر ، کشادہ ، دُھوپ ، سَحَر
غُرُور ، قہر ، تعجب ، کمال ، نُور بھری

پَلک: فسانہ ، شرارت ، حجاب ، تیر ، دُعا
تمنا ، نیند ، اِشارہ ، خمار ، سخت تھکی

نظر: غزال ، محبت ، نقاب ، جھیل ، اَجل
سُرُور ، عشق ، تقدس ، فریبِ اَمر و نہی

نفیس ناک: نزاکت ، صراط ، عدل ، بہار
جمیل ، سُتواں ، معطر ، لطیف ، خوشبو رَچی

گلابی گال: شَفَق ، سیب ، سرخی ، غازہ ، کنول
طلسم ، چاہ ، بھنور ، ناز ، شرم ، نرم گِری

دو لب: عقیق ، گُہر ، پنکھڑی ، شرابِ کُہن
لذیذ ، نرم ، ملائم ، شریر ، بھیگی کلی

نشیلی ٹھوڑی: تبسم ، ترازُو ، چاہِ ذَقن
خمیدہ ، خنداں ، خجستہ ، خمار ، پتلی گلی

گلا: صراحی ، نوا ، گیت ، سوز ، آہ ، اَثر
ترنگ ، چیخ ، ترنم ، ترانہ ، سُر کی لڑی

ہتھیلی: ریشمی ، نازُک ، مَلائی ، نرم ، لطیف
حسین ، مرمریں ، صندل ، سفید ، دُودھ دُھلی

کمر: خیال ، مٹکتی کلی ، لچکتا شباب
کمان ، ٹوٹتی اَنگڑائی ، حشر ، جان کنی

پری کے پاؤں: گلابی ، گداز ، رَقص پرست
تڑپتی مچھلیاں ، محرابِ لب ، تھرکتی کلی

روح کی بات سنی ، جسم كے تیور دیکھے

علی عباس امید

روح کی بات سنی ، جسم كے تیور دیکھے
التجا  ہے وہ اِس آگ میں جل کر دیکھے

تم وہ دریا جو چڑھے بھی تو گھڑی بھر كے لیے
میں وہ قطرہ ہوں جو گر كے بھی سمندر دیکھے

چبھتا  ماحول ، گھلتی  روح ، گریزاں لمحے
دِل کی حسرت ہے کبھی ان سے نکل کر دیکھے

کیسے کر لے وہ  یقین تجھ پر فریب غم ذات
تیری راہوں میں جو  تشکیک  كے پتھر دیکھے

بات ہو صرف حقیقت کی تو سہ لے لیکن
اپنے خوابوں کو بکھرتے کوئی کیوں کر دیکھے

ہم سے مت  پوچھئے کیا نفس پہ گزری امید
اک اک سانس سے لڑتے ہوئے لشکر دیکھے

علی عباس امید
………
مزاح نگار, نقاد, محقق, ادیب, شاعر
بھوپال(مدھیہ پردیش) , بھارت

جب ہوا عرفاں تو غم آرامِ جاں بنتا گیا

مجروحؔ سلطانپوری

جب ہوا عرفاں تو غم آرامِ جاں بنتا گیا
سوزِ جاناں دل میں سوزِ دیگراں بنتا گیا

رفتہ رفتہ منقلب ہوتی گئی رسمِ چمن
دھیرے دھیرے نغمۂ دل بھی فغاں بنتا گیا

میں اکیلا ہی چلا تھا جانبِ منزل مگر
لوگ ساتھ آتے گئے اور کارواں بنتا گیا

میں تو جب جانوں کہ بھر دے ساغرِ ہر خاص و عام
یوں تو جو آیا وہی پیرِ مغاں بنتا گیا

جس طرف بھی چل پڑے ہم آبلہ پایانِ شوق
خار سے گل اور گل سے گلستاں بنتا گیا

شرحِ غم تو مختصر ہوتی گئی اس کے حضور
لفظ جو منہ سے نہ نکلا داستاں بنتا گیا

دہر میں مجروح کوئی جاوداں مضموں کہاں
میں جسے چھوتا گیا وہ جاوداں بنتا گیا

ماں جھوٹ بول بول کے جنت میں جائے گی

فرحان دل

کھانا ہمیشہ وقت سے پہلے پکائے گی
ہاتھوں سے اپنے سب کو نوالے کھلائے گی
بچوں سے یہ کہے گی "مجھے بھوک ہی نہیں”
بھوکی رہے گی پھر بھی بہانے بنائے گی
کھانا اگر بچے گا تو آخر میں کھائے گی
ماں جھوٹ بول بول کے جنت میں جائے گی

تہوار ہو تو جائے گی لوگوں کے پاس یہ
لائے گی اپنے بچوں کی خاطر لباس یہ
ہونے نہ دے گی اوروں کو احساس کرب کا
ہر غم اکیلے سہہ کے رہے گی اداس یہ
اپنی تمام خواہشیں دل میں دبائے گی
ماں جھوٹ بول بول کے جنت میں جائے گی

بیمار ہو تو درد چھپاتی رہے گی یہ
اور خود کو تندرست بتاتی رہے گی یہ
کوشش کرے گی خوش نظر آنے کی ہر گھڑی
لہجے کوبھی شگفتہ بناتی رہے گی یہ
جب بھی نظر ملائے گی یہ مسکرائے گی
ماں جھوٹ بول بول کے جنت میں جائے گی

غربت میں کب یہ چین سے سوئے گی رات بھر
بستر میں منہ چھپا کے یہ روئے گی رات بھر
اللہ سے دعاؤں میں مانگے گی سب کا سکھ
تکیے کو آنسوؤں سے بھگوئے گی رات بھر
سوجی ہوئی نگاہوں کو سب سے چھپائے گی
ماں جھوٹ بول بول کے جنت میں جائے گی

بیٹے گئے جو دور تو دے گی دعائیں خوب
تصویر ان کی دیکھ کے لے گی بلائیں خوب
خط میں لکھے گی میں یہاں بالکل مزے میں ہوں
ہر دم دعا کرے گی کہ بیٹے کمائیں خوب
بیٹوں کا خط نہ آئے مگر یہ سنائے گی
ماں جھوٹ بول بول کے جنت میں جائے گی

بیٹے بھلے ہی لاکھ ستاتے رہیں اسے
اعمال ان کے خون رلاتے رہیں اسے
بیوی کے ناز نخرے اٹھانے کے شوق میں
تا عمر بے وقوف بناتے رہیں اسے
ہر حال میں انہیں بہت اچھا بتائے گی
ماں جھوٹ بول بول کے جنت میں جائے گی