سرِ صحرا مسافر کو ستارہ یاد رہتا ہے

عدیم ہاشمی
سرِ صحرا مسافر کو ستارہ یاد رہتا ہے
میں چلتا ہوں مجھے چہرہ تمہارا یاد رہتا ہے
تمہارا ظرف ہے تم کو محبت بھول جا تی ہے
ہمیں تو جس نے ہنس کر بھی پکارا یاد رہتا ہے
محبت اور نفرت اور تلخی اور شیرینی
کسی نے کس طرح کا پھول مارا یاد رہتا ہے

محبت میں جو ڈوبا ہوا سے ساحل سے کیا لینا
کسے اس بحر میں جا کر کنارہ یاد رہتا ہے

بہت لہروں کو پکڑ ا ڈوبنے والے کے ہاتھوں نے
یہی بس ایک دریا کا نظارہ یاد رہتا ہے

صدائیں ایک سی، یکسانیت میں ڈوب جاتی ہیں
ذرا سا مختلف جس نے پکارا یا د رہتا ہے

میں کس تیزی سے زندہ ہوں ،میں یہ تو بھول جاتا ہوں
نہیں آنا ہے دنیا میں دوبارہ یاد رہتا ہے

کسی نے سچ کہا ہے یہ

کسی نے سچ کہا ہے یہ
محبت اور کہانی میں کوئی رشتہ نہیں ہوتا
مگر میری محبت تو کہانی ہی کہانی ہے
مگر میری کہانی میں نہ راجہ ہے نہ رانی ہے
نہ شہزادہ نہ شہزادی
محبت کی کہانی تو مسافت کی کہانی ہے
ضرورت کی مسافت میں
مسافر واپسی کے سارے امکاں پاس رکھتا ہے
محبت کی مسافت میں
مسافر کے پلٹنے کا کوئی امکاں نہیں ہوتا
وہ ساری کشتیاں اپنی جلا دیتے ہیں ساحل پر
کہ نا امید ہونے پر، پلٹنا بھی اگر چاہیں
تو واپس جا نہیں پائیں
محبت کی کہانی میں مسافت کی بشارت تھی
مسافت طے ہوئی تو پھر
جلا ڈالی تھیں میں نے بھی وہیں سب کشتیاں اپنی
شکستہ جسم تھا میرا
مرے سینے میں گھاؤ تھا
بھڑکتا اک الاؤ تھا
کسی کی چاہ میں سب کچھ لُٹا کر آ گیا تھا میں
کہاں پر آ گیا تھا میں؟
جہاں پر ذات کا میری حوالہ ہی نہ ملتا تھا
شبِ تِیرہ سے نکلا تھا اجالوں کی تمنا میں
مگر مجھ کو کہیں پر بھی اجالا ہی نہ ملتا تھا
مگر ہمت نہیں ہاری
مگر ہمت نہیں ہاری!!!
یہاں تک آگیا ہوں میں
جہاں ہر سُو اجالا ہے
میری پہچان اپنی ہے
وطن میرا حوالہ ہے!!

عورت کے آنسو

اپنی ماں کے بہتے آنسو دیکھ کے اک معصوم سا لڑکا
اپنی ماں کو چوم کے بولا
پیاری ماں تو کیوں روتی ہے؟
ماں نے اس کا ماتھا چوما ،گلے لگایا،اس کے بالوں کو سہلایا
گہری سوچ میں کھو کر بولی
’’کیونکہ میں اک عورت ہوں‘‘
بیٹا بولا،میں تو کچھ بھی سمجھ نہ پایا
ماں مجھ کو کُھل کر سمجھاؤ
اس کو بھینچ کے ماں یہ بولی
’’بیٹا تم نہ سمجھ سکو گے‘‘
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
شام ہوئی تو چھوٹا لڑکا،باپ کے پہلو میں جا بیٹھا
باپ سے پوچھا’’ماں اکثر کیوں رو دیتی ہے‘‘
باپ نے اس کو غور سے دیکھا ،کچھ چکرایا،پھر بیٹے کو یہ سمجھایا
’’یہ عادت ہے ہر عورت کی،دل کی بات کبھی نہ کہنا
فارغ بیٹھ کے روتے رہنا‘‘
باپ کا مُبلغ علم تھا اتنا ،بیٹے کو بتلاتا کیا
اس کے سوا سمجھاتا کیا
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
جب بچے نے ہوش سنبھالا
علم نے اس کے زہن و دل کو خوب اجالا
اس نے اپنے رب سے پوچھا
میرے مالک میرے خالق، آج مجھے اک بات بتا دے
الجھن سی ہے اک سلجھا دے
اتنی جلدی اتنی جھٹ پٹ ہر عورت کیوں رو دیتی ہے
دیکھ کے اس کی یہ حیرانی،بھولے سے من کی ویرانی
پیار خدا کو اس پر آیا،اس کو یہ نکتہ سمجھایا
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
عورت کی تخلیق کا لمحہ خاص بہت تھا
مرد کو سب کچھ دے بیٹھا تھا پھر بھی میرے پاس بہت تھا
میں نے چاہا عورت کو کچھ خاص کروں میں
چہرہ مقناطیسی رکھوںلیکن دل میں یاس بھروں میں
میں نے اس کے کاندھوں کو مضبوط بنایا
کیونکہ اس کو بوجھ بہت سے سہنے تھے
اور پھر ان کو نرم بھی رکھا
کیونکہ ان پر سر کو رکھ کر
بچوں اور شوہرنے دکھڑے کہنے تھے
اس کو ایسی طاقت بخشی ہر آندھی طوفان کے آگے وہ ڈٹ جائے
پر دل اتنا نازک رکھا تیکھے لفظ سے جو کٹ جائے
اس کے دل کو پیار سے بھر کر گہرائی اوروسعت دے دی
پھولوں جیسا نازک رکھا پھر بھی کافی قوت دے دی
تا وہ اپنے پیٹ جنوںکے سرد رویوں کو سہہ جائے
ان راہوں پر چلتی جائے جن پر کوئی چل نہ پائے
بچوں کی گستاخی جھیلے ،پیار کا امرت بانٹے
اپنی روح پہ جھیل سکے فقروں کے تپتے چانٹے
شوہر کی بے مہری بھول کے ہر پل اس کو چاہے
اس کی پردہ پوشی کر کے زخم پہ رکھے پھاہے
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
اتنا بوجھل جیون اس کو دے کر میں نے سوچا
نازک سی یہ ڈالی اتنے بوجھ سے ٹوٹ نہ جائے
اس کے نازک کاندھوں پر جب رکھا اتنا بار
اس کی آنکھوں میں رکھ دی پھر اشکوں کی منجدھار
اس کو فیاضی سے میں نے بخشی یہ سوغات
تا وہ دیپ جلا کر کاٹے غم کی کالی رات
غم کی بھاپ بھرے جب دل میں یہ روزن کھل جائے
رو کر اس کے دل کی تلخی پل بھر میں دھل جائے جائے
اس کے سندر مکھڑے پھر روپ وہی لوٹ آئے
عرشی بے حس دنیا کو جو رب کی یاد دلائے

ابھی وہ درد باقی ہے

ابھی وہ درد باقی ہے
اگرچہ وقت مرہم ہے
مگر کچھ وقت لگتا ہے
کسی کو بھول جانے میں
دوبارہ دل بسانے میں
ابھی کچھ وقت لگنا ہے
ابھی وہ درد با قی ہے
میں کس طرح نئی الفت میں
اپنی ذات گم کر دوں
کہ میرے جسم و وجدان میں
ابھی وہ فرد باقی ہے
ابھی اس شخص کی
مجھ پرنگاہ سرد باقی ہے
ابھی تو عشق کے رستوں کی
مجھ پر گرد باقی ہے
ابھی وہ درد باقی ہے

ﺳﻮ ﺁﺩﮬﮯ ﺧﻮﺍﺏ ﺗﻢ ﺭﮐﮫ ﻟﻮ

ﺳﻮ ﺁﺩﮬﮯ ﺧﻮﺍﺏ ﺗﻢ ﺭﮐﮫ ﻟﻮ ،
ﯾﮧ ﺁﺩﮬﮯ ﺧﻮﺍﺏ ﻣﯿﺮﮮ ﮨﯿﮟ
ﭼﻠﻮ ﺗﻘﺴﯿﻢ ﮐﺎ ﻗﺼﮧ ﯾﮩﯿﮟ ﺍﺏ ﺧﺘﻢ ﮐﺮﺗﮯ
ﮨﯿﮟ
ﻣﮕﺮ ﭨﮭﮩﺮﻭ ،
ﯾﮩﯿﮟ ﭨﮭﮩﺮﻭ
ﯾﮩﺎﮞ ﺗﻢ ﺳﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﺍﮎ ﺑﺎﺕ ﮐﮩﻨﯽ ﮨﮯ ،
ﻣﺠﮭﮯ ﺍﮎ ﻋﮩﺪ ﻟﯿﻨﺎ ﮨﮯ
ﮐﺴﯽ ﺑﮭﯽ ﻣﻮﮌ ﯾﺎ ﺍﮔﻠﮯ ﭘﮍﺍﺅ ﭘﺮ ،
ﻧﮧ ﻣﮍ ﮐﮯ ﺩﯾﮑﮭﻨﺎ ﻣﺠﮫ ﮐﻮ
ﮐﮧ ﻣﮍ ﮐﺮ ﺩﯾﮑﮭﻨﮯ ﺳﮯ ﻋﮩﺪ ﮐﻤﺰﻭﺭ
ﭘﮍﺗﮯ ﮨﯿﮟ ، ﺍﺭﺍﺩﮮ ﭨﻮﭦ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ
ﺻﺒﺮ ﮐﮯ ﺟﺎﻡ ﮨﺎﺗﮭﻮﮞ ﺳﮯ ﭘﻠﻮﮞ ﻣﯿﮟ
ﭼﮭﻮﭦ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ
ﺑﮩﺖ ﻧﻘﺼﺎﻥ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ
ﺗﻢ ﯾﮧ ﻧﻘﺼﺎﻥ ﻣﺖ ﮐﺮﻧﺎ
ﺧﯿﺎﻟﯽ ﺍﺱ ﮐﮩﺎﻧﯽ ﻣﯿﮟ ﺣﻘﯿﻘﯽ ﺭﻧﮓ
ﻣﺖ ﺑﮭﺮﻧﺎ.