ابھی یہ طرز، یہ لہجہ ہے کہ تُم ہو

 کلیم عاؔجِز
ابھی یہ طرز، یہ لہجہ ہے کہ تُم ہو
یعنی روشِ مؔیر ابھی تازہ ہے کہ تُم ہو
پِھر سُن کے غزل کوئی نہ تھامیگا کلیجہ
لفظوں سے ابھی درد کا رِشتہ ہے کہ تُم ہو
پِھر پُوچھنے والا کوئی ہوگا کہ نہ ہوگا
فی الحال مزاجِ غزل اچّھا ہے کہ تُم ہو

ہرچند کہ مجمع ہے حریفوں کا پس و پیش
شہنازِ غزل کا یہ بھروسہ ہے کہ تُم ہو

ہے درد کو چُھپ جانے کا موقع کہ غزل ہے
ہر درد کا اِس دَور میں چرچا ہے کہ تُم ہو

اِس دَور میں ہے بُلبُلِ بوستانِ غزل کون!
پھُولوں کا یہ خاموش اِشارہ ہے کہ تُم ہو

کچھ ہم نے بہت درد بھرے شعر سنے ہیں
اشعار تو سن کر یہی لگتا ہے کہ تُم ہو

ہم خود کُشی کر لیتے اگر تُم نہیں ہوتے
ہم کو بھی غمِ وقت گوارا ہے کہ تُم ہو

سب چاہتے ہیں تُم نہ رہو بزمِ غزل میں
لیکن یہ نظر ہی کا کرشمہ ہے کہ تُم ہو

ہم سُن کے تڑپتے بھی ہیں، آتا ہے مزا بھی!
تُم اچّھے نہیں ہو، مگر اچّھا ہے کہ تُم ہو

One Reply to “ابھی یہ طرز، یہ لہجہ ہے کہ تُم ہو”

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s