مسجد اقصى

پیاری نیند اور مصلحت کے پجاری کسی دوسری قوم  کو نصیب کہاں یہ تو ہماری قسمت ھے.

مسجد اقصى: خيالات كا ايك سفر

وہ کالی رات تھی.
روشنی کانام ونشان تک نہ تھا.
نومبر کی سرد‎ ‎رات تھی.
بسترسے لپٹ کر‎ ‎نیند لانےکی کوشش جاری تھی.
ایک انجانا سا‎ ‎ڈر‎ ‎لگ رھا‎ ‎تھا.
ایسا‎ ‎شاید‎ ‎ھی پھلے کبھی ھوا‎ ‎تھا.
خوف اپنی ذات سے‎ ‎زیادہ ان لوگوں کاتھا، جوانتھائی بےسرو سامانی کے عالم میں ایک ایسی ظالم طاقت سے نبرد‎آزما ھیں، جو هر‎ ‎طرح کےجنگی اسباب سے لیس ھے‎ ‎اور‎ ‎دنیا کو مٹھی میں کرچکی ھے.

دنیا‎ ‎ہر‎ ‎واقعہ‎ ‎کو‎ ‎انھیں‎ ‎کی‎ ‎نگاہ‎ ‎سے‎ ‎
دیکھتی اورانھیں کے کان سےسنتی ھے.
وہ جب چاھے دنیا كو‎ ‎کھڑا‎ ‎کر دے‎ ‎اورجب چاھے بیٹھا دے –

آہ ! ان رکیا بیت رھی ھوگی؟
, آہ ! وہ یتیم بچے.
آہ ! وہ بیوہ عورتیں .
آہ ! وہ پابند سلاسل مرد میدان، کیا کھاتے ھونگے؟
کیا پھنتے ھونگے؟

اپنے ٹوٹے گھروں کو دیکھ کر ان کے دل میں حسرت و یاس کی کون سی کیفیت پیدا ھوتی ھوگی؟

سردی کی ٹھنڈی رات میں اپنے سر چھپانے کا کون سا سامان وہ کرتے ھونگے؟

ابھی کیا وقت ھو رھا ھے؟
وھاں کیا وقت ھو رھا ھوگا؟
کھیں کوئی نیا بم اور نیا میزائل ان کا تعاقب تونھیں کر رھا ھے؟

موت ایک نئی بارات لیکر ان کی دھلیز پر دستک دینے کی تیاری تو نھیں کر رھی ھے؟

میں انھی خیالات میں گم سم تھا. محسوس ھو رھا تھا کہ جیسے میں فلسطین کی سرزمین سے قریب ھو رھا ھوں، دیکھتے ھی دیکھتے ( قبۃ الصخرہ ) کی سنھری عمارت نظر آئی.

وهي مسجد اقصى كا سنهرا گنبد جو آج بهي اهل دل كے دلوں كا نور اور آنكهوں كا سرور هے.

میرا دل دھڑکنے لگا،
اس نے مجھے پھچان لیا.
بدحواسی میں، میں وادئی مقدس کا ادب ھی بھول گیا.

نہ وضو کر سکا اور نہ جوتے اتار سکا.
میں نے ھوش و حواس ٹھکانے کیے. اور آداب بجا لانے کی تیاری کرنے لگا کہ ( قبۃ الصخرة ) سےآواز آئی : آہ تم کس ادب کی بات سوچ رھے ھو؟  کتنے غافل ھو؟
کیا تمھیں نھیں معلوم کہ اس سرزمین کے اقدار بدل گئے ھیں؟

پانی کا وضو، یھاں جائز ھی نھیں ھے،  یھاں تو خون جگر کا وضو ھوتا هے.
یہ زمینیں جو تمھیں رنگین نظر آ رھی ھیں، آخر کیوں رنگین ھیں؟

یھاں تو خون کی محفلیں جما کرتی ھیں.
خوف و ھراس کے سایے میں نماز عشق ادا کی جاتی ھے.

یھاں جانوں کے نذرانے دیيے جاتےھیں.

یہ اب وادئے مقدس کھاں؟
اجڑے ھوئے کچھ مسلمانوں کا قیدخانہ یا یھودیوں کی تفریح گاہ ھے.

اس کے محراب اب نماز سے نھیں؛ بلکہ یھودیوں کے رقص و سرور سے آباد ھیں………..
میں حیرت کی تصویر بن چکا تھا، ( قبة الصخرة ) کی زبان کا ایک ایک لفظ،  مجھے نشتر سا محسوس ھو رھا تھا.

وہ اپنے ھر لفظ میں ایک نئی داستان بتا رھا تھا.
سالوں سے اس کی زبان بند تھی.
مگر آج کھل گئی تھی.

لگ رھا تھا آج وہ سب کچھ کہہ دینا چاھتا ھے.

یہ قبہ دور اموی کی یادگار ھے. ابوالملوک خلیفہ عبدالملک بن مروان نے اسے تعمیر کیا تھا.
خلفاء بنی امیہ اپنی غیرت وحمیت میں مشھور رھےھیں.

وہ فصاحت وبلاغت میں بهى، اپنی خاص پھچان رکھتے تھے.

اگر تاریخ کی کتابوں سے اس قبہ کی نسبت بنوامیہ کی طرف ثابت نہ ھوتی،  تو بھی اس قبہ کی فصاحت سے، ميرے نزديك یہ نسبت ثابت ھو جاتی-

میری سمجھ میں نھیں آ رھا تھا کہ کیا کهوں؟

اتنے میں میری نظر قبہ کے نچلے حصہ پر پڑی.

وھاں کچھ سیاھی کے نشانات تھے…
میں نے حیرت سے پوچھا : یہ آپ کے دامن میں سیاھی کا نشان کیسا ھے؟

جھلا کر جواب دیا: کیا پوچھتے ھو؟

آخر کتنے نشانات دکھاؤں، اور کس کس کی وجہ بتاؤں؟

یھاں اب رکھا کیا ھے کہ دیکھنے آئےھو؟
میں ایک زندہ لاش ھوں، میری بنیاد کھوکھلی ھو چکی ھے. میرے جسم کا ایک زخم مندمل نھیں ھونے پاتا کہ دوسرا زخم لگا دیا جاتا هے.

میری مثال اس جانورکی سی ھے،  قصائی جسے ذبح کرکے، لکڑی پرلٹکا دیتا ھے، اور نیچے سے کاٹنا شروع کر دیتا ھے، بالآخر پورے کو هی کاٹ کر بیچ ڈالتا ھے-

اب تو وہ کھیل بھی یھاں شروع ھو گیا جو پھلےکبھی نھیں ھوا تھا.
میرے اندر آگ لگائی گئی.

اور مسجد اقصی کے کئی دروازوں کو جلانے کی کوشش کی گئی اور اب یھاں اسی طرح آگ و خون کا کھیل چل رھا ھے؛ لیکن یہ سب بھی میں گوارہ کر لیتا،  اگر دوسرے اسلامی مقامات میں امن و سلامتی کا بول بالا ھوتا.

یھاں تو میری چاروں طرف آگ لگ رھی ھے:
عراق جل رھا ھے.
شام سلگ رھا ھے.
یمن میں طوفان بپا ھے.
لیبیا میں لوٹ و غارت گری کی حکومت ھے.
مصر میں فرعون وقت کشت وخون کا دردناک نظارہ پیش کر رھا ھے.
ایران اپنی مجرمانہ پالیسیوں سے عالم عربی کے نقشے بگاڑنے میں لگا ھوا ھے.
حزب اللہ ھوں کہ حوثی، ھوں کہ نصیری، سب ایک ھی مقصد کے لیے کام کر رھےھیں، کہ وسیع اسرائیل کا خواب جلد از جلد پورا کر دیا جائے.

اب بتاؤ کہ اتنے زخم میں کیسے برداشت کروں؟

اور یہ قصئہ درد سناؤں تو کسے اور کیسے سناؤں؟
اور ھاں، یہ پوچھنا تو رہ ھی گیا کہ آخر تمھیں میری فکر کیسے ھوئی؟
تم ھو کون؟

کیا پیرس کا ڈرامہ ختم ھو گیا؟
کیا دنیا میں کوئی بم نھیں پھٹا؟
اگر ھاں تو پھر یھاں سے جتنی جلدی ھو سکے، چلےجاؤ.

سواد اعظم کےساتھ رھو.
اسی میں خیر ھے.
یھی شریعت ھے.
تم تو جاؤ، سواد اعظم کے ساتھ پیرس بم دھماکے کا، رونا روؤ، ان کا چراغاں کرو، انھیں خراج عقیدت پیش کرو،
اس کے قاتل کو تلاش کرو.
اس کے خلاف احتجاج کرو.

دھشت گردی کےخلاف عالمی تحریک چلاؤ.
سنو! ایک بھی دھشت گرد دنیا میں رھنے نہ پائے-
اور ہان یہ بھی یاد رکھنا کہ مین نے تمہیں اپنے راز کا محرم بنایا ہے،
اسے راز ہی رکھنا، کسی سے بیان کرنے کی اجازت ہرگز نہین ہے، کہیں کسی کی نیند خراب نہ ہوجاے.

کہیں کوئی پریشان نہ ہوجائے.
کسی کا مفاد متأثر نہ ہوجائے.
ایسی پیاری اور مست نیند ہر قوم کو نصیب کہاں؟
یہ تو صرف خیر الامت کا حصہ ہے.
اسے سونے دو.

سرہانے میر کے آہستہ بولو
ابھی ٹک روتے روتے سو گیا ہے .

(محمد نوشاد نوري قاسمي استاذ دار العلوم وقف ديوبند)

مسجد اقصى

پیاری نیند اور مصلحت کے پجاری کسی دوسری قوم  کو نصیب کہاں یہ تو ہماری قسمت ھے.

مسجد اقصى: خيالات كا ايك سفر

وہ کالی رات تھی.
روشنی کانام ونشان تک نہ تھا.
نومبر کی سرد‎ ‎رات تھی.
بسترسے لپٹ کر‎ ‎نیند لانےکی کوشش جاری تھی.
ایک انجانا سا‎ ‎ڈر‎ ‎لگ رھا‎ ‎تھا.
ایسا‎ ‎شاید‎ ‎ھی پھلے کبھی ھوا‎ ‎تھا.
خوف اپنی ذات سے‎ ‎زیادہ ان لوگوں کاتھا، جوانتھائی بےسرو سامانی کے عالم میں ایک ایسی ظالم طاقت سے نبرد‎آزما ھیں، جو هر‎ ‎طرح کےجنگی اسباب سے لیس ھے‎ ‎اور‎ ‎دنیا کو مٹھی میں کرچکی ھے.

دنیا‎ ‎ہر‎ ‎واقعہ‎ ‎کو‎ ‎انھیں‎ ‎کی‎ ‎نگاہ‎ ‎سے‎ ‎
دیکھتی اورانھیں کے کان سےسنتی ھے.
وہ جب چاھے دنیا كو‎ ‎کھڑا‎ ‎کر دے‎ ‎اورجب چاھے بیٹھا دے –

آہ ! ان رکیا بیت رھی ھوگی؟
, آہ ! وہ یتیم بچے.
آہ ! وہ بیوہ عورتیں .
آہ ! وہ پابند سلاسل مرد میدان، کیا کھاتے ھونگے؟
کیا پھنتے ھونگے؟

اپنے ٹوٹے گھروں کو دیکھ کر ان کے دل میں حسرت و یاس کی کون سی کیفیت پیدا ھوتی ھوگی؟

سردی کی ٹھنڈی رات میں اپنے سر چھپانے کا کون سا سامان وہ کرتے ھونگے؟

ابھی کیا وقت ھو رھا ھے؟
وھاں کیا وقت ھو رھا ھوگا؟
کھیں کوئی نیا بم اور نیا میزائل ان کا تعاقب تونھیں کر رھا ھے؟

موت ایک نئی بارات لیکر ان کی دھلیز پر دستک دینے کی تیاری تو نھیں کر رھی ھے؟

میں انھی خیالات میں گم سم تھا. محسوس ھو رھا تھا کہ جیسے میں فلسطین کی سرزمین سے قریب ھو رھا ھوں، دیکھتے ھی دیکھتے ( قبۃ الصخرہ ) کی سنھری عمارت نظر آئی.

وهي مسجد اقصى كا سنهرا گنبد جو آج بهي اهل دل كے دلوں كا نور اور آنكهوں كا سرور هے.

میرا دل دھڑکنے لگا،
اس نے مجھے پھچان لیا.
بدحواسی میں، میں وادئی مقدس کا ادب ھی بھول گیا.

نہ وضو کر سکا اور نہ جوتے اتار سکا.
میں نے ھوش و حواس ٹھکانے کیے. اور آداب بجا لانے کی تیاری کرنے لگا کہ ( قبۃ الصخرة ) سےآواز آئی : آہ تم کس ادب کی بات سوچ رھے ھو؟  کتنے غافل ھو؟
کیا تمھیں نھیں معلوم کہ اس سرزمین کے اقدار بدل گئے ھیں؟

پانی کا وضو، یھاں جائز ھی نھیں ھے،  یھاں تو خون جگر کا وضو ھوتا هے.
یہ زمینیں جو تمھیں رنگین نظر آ رھی ھیں، آخر کیوں رنگین ھیں؟

یھاں تو خون کی محفلیں جما کرتی ھیں.
خوف و ھراس کے سایے میں نماز عشق ادا کی جاتی ھے.

یھاں جانوں کے نذرانے دیيے جاتےھیں.

یہ اب وادئے مقدس کھاں؟
اجڑے ھوئے کچھ مسلمانوں کا قیدخانہ یا یھودیوں کی تفریح گاہ ھے.

اس کے محراب اب نماز سے نھیں؛ بلکہ یھودیوں کے رقص و سرور سے آباد ھیں………..
میں حیرت کی تصویر بن چکا تھا، ( قبة الصخرة ) کی زبان کا ایک ایک لفظ،  مجھے نشتر سا محسوس ھو رھا تھا.

وہ اپنے ھر لفظ میں ایک نئی داستان بتا رھا تھا.
سالوں سے اس کی زبان بند تھی.
مگر آج کھل گئی تھی.

لگ رھا تھا آج وہ سب کچھ کہہ دینا چاھتا ھے.

یہ قبہ دور اموی کی یادگار ھے. ابوالملوک خلیفہ عبدالملک بن مروان نے اسے تعمیر کیا تھا.
خلفاء بنی امیہ اپنی غیرت وحمیت میں مشھور رھےھیں.

وہ فصاحت وبلاغت میں بهى، اپنی خاص پھچان رکھتے تھے.

اگر تاریخ کی کتابوں سے اس قبہ کی نسبت بنوامیہ کی طرف ثابت نہ ھوتی،  تو بھی اس قبہ کی فصاحت سے، ميرے نزديك یہ نسبت ثابت ھو جاتی-

میری سمجھ میں نھیں آ رھا تھا کہ کیا کهوں؟

اتنے میں میری نظر قبہ کے نچلے حصہ پر پڑی.

وھاں کچھ سیاھی کے نشانات تھے…
میں نے حیرت سے پوچھا : یہ آپ کے دامن میں سیاھی کا نشان کیسا ھے؟

جھلا کر جواب دیا: کیا پوچھتے ھو؟

آخر کتنے نشانات دکھاؤں، اور کس کس کی وجہ بتاؤں؟

یھاں اب رکھا کیا ھے کہ دیکھنے آئےھو؟
میں ایک زندہ لاش ھوں، میری بنیاد کھوکھلی ھو چکی ھے. میرے جسم کا ایک زخم مندمل نھیں ھونے پاتا کہ دوسرا زخم لگا دیا جاتا هے.

میری مثال اس جانورکی سی ھے،  قصائی جسے ذبح کرکے، لکڑی پرلٹکا دیتا ھے، اور نیچے سے کاٹنا شروع کر دیتا ھے، بالآخر پورے کو هی کاٹ کر بیچ ڈالتا ھے-

اب تو وہ کھیل بھی یھاں شروع ھو گیا جو پھلےکبھی نھیں ھوا تھا.
میرے اندر آگ لگائی گئی.

اور مسجد اقصی کے کئی دروازوں کو جلانے کی کوشش کی گئی اور اب یھاں اسی طرح آگ و خون کا کھیل چل رھا ھے؛ لیکن یہ سب بھی میں گوارہ کر لیتا،  اگر دوسرے اسلامی مقامات میں امن و سلامتی کا بول بالا ھوتا.

یھاں تو میری چاروں طرف آگ لگ رھی ھے:
عراق جل رھا ھے.
شام سلگ رھا ھے.
یمن میں طوفان بپا ھے.
لیبیا میں لوٹ و غارت گری کی حکومت ھے.
مصر میں فرعون وقت کشت وخون کا دردناک نظارہ پیش کر رھا ھے.
ایران اپنی مجرمانہ پالیسیوں سے عالم عربی کے نقشے بگاڑنے میں لگا ھوا ھے.
حزب اللہ ھوں کہ حوثی، ھوں کہ نصیری، سب ایک ھی مقصد کے لیے کام کر رھےھیں، کہ وسیع اسرائیل کا خواب جلد از جلد پورا کر دیا جائے.

اب بتاؤ کہ اتنے زخم میں کیسے برداشت کروں؟

اور یہ قصئہ درد سناؤں تو کسے اور کیسے سناؤں؟
اور ھاں، یہ پوچھنا تو رہ ھی گیا کہ آخر تمھیں میری فکر کیسے ھوئی؟
تم ھو کون؟

کیا پیرس کا ڈرامہ ختم ھو گیا؟
کیا دنیا میں کوئی بم نھیں پھٹا؟
اگر ھاں تو پھر یھاں سے جتنی جلدی ھو سکے، چلےجاؤ.

سواد اعظم کےساتھ رھو.
اسی میں خیر ھے.
یھی شریعت ھے.
تم تو جاؤ، سواد اعظم کے ساتھ پیرس بم دھماکے کا، رونا روؤ، ان کا چراغاں کرو، انھیں خراج عقیدت پیش کرو،
اس کے قاتل کو تلاش کرو.
اس کے خلاف احتجاج کرو.

دھشت گردی کےخلاف عالمی تحریک چلاؤ.
سنو! ایک بھی دھشت گرد دنیا میں رھنے نہ پائے-
اور ہان یہ بھی یاد رکھنا کہ مین نے تمہیں اپنے راز کا محرم بنایا ہے،
اسے راز ہی رکھنا، کسی سے بیان کرنے کی اجازت ہرگز نہین ہے، کہیں کسی کی نیند خراب نہ ہوجاے.

کہیں کوئی پریشان نہ ہوجائے.
کسی کا مفاد متأثر نہ ہوجائے.
ایسی پیاری اور مست نیند ہر قوم کو نصیب کہاں؟
یہ تو صرف خیر الامت کا حصہ ہے.
اسے سونے دو.

سرہانے میر کے آہستہ بولو
ابھی ٹک روتے روتے سو گیا ہے .

(محمد نوشاد نوري قاسمي استاذ دار العلوم وقف ديوبند)

آٹھ بار میری ماں نے مجھ سے جھوٹ بولا-

آٹھ بار میری ماں نے مجھ سے جھوٹ بولا-
یہ کہانی میری پیدائش سے شروع ہوتی ہے میں ایک غریب فیملی کا اکلوتا بیٹا تھا ہمارے پاس کھانے کو کچھ بھی نہ تھا اور اگر کبھی ہمیں کھانے کو کچھ مل جاتا تو امی اپنے حصے کا کھانا بھی مجھے دے دیتی اور کہتیں تم کھا لو مجھے بھوک نہی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔یہ میری ماں کا پہلا جھوٹ تھا-
جب میں تھوڑا بڑا ہوا تو ماں گھر کا کام ختم کر کے قریبی جھیل پر مچھلیاں پکڑنے جاتی اور ایک دن اللہ کے کرم سے دو مچھلیاں پکڑ لیں تو انہیں جلدی جلدی پکایااور میرے سامنے رکھ دیا میں کھاتا جاتا اور جو کانٹے کے ساتھ تھوڑا لگا رہ جاتا اسے وہ خود کھاتی یہ دیکھ کر مجھے بہت دکھ ہوا میں نے دوسری مچھلی ماں کے سامنے رکھ دی اس نے واپس کر دی اور کہا بیٹا تم کھا لو تمہیں تو پتا ہے نا مجھے مچھلی پسند نہیں ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔یہ میری ماں کا دوسرا جھوٹ تھا-
جب میں سکول جانے کی عمر کا ہوا تو میری ماں نے ایک گارمنٹس کی فیکٹری کے ساتھ کام کرنا شروع کیا اور گھر گھر جا کر گارمنٹس بیچتی-سردی کی ایک رات جب بارش زوروں پر تھی میں ماں کا انتظار کر رہا تھا ماں کہ دیکھنے آس پاس کی گلیوں میں نکل گیا ماں ابھی بھی لوگوں کے دروازے پر کھڑی سامان بیچ رہی تھی ،میں نے کہا ماں گھر چلو،تھک گئی ہو گی باقی کل کر لینا ماں بولی بیٹا میں بلکل نہی تھکی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔یہ میری ماں کا تیسرا جھوٹ تھا-
ایک روز میرا فائنل ایگزام تھا ماں نے ضد کی وہ بھی میرے ساتھ چلے گی میں اندر پیپر دے رہا تھا اور وہ باہر دھوپ میں کھڑی میرے لئے دعا کر رہی تھی میں جب باہر آیا تو فورا مجھے گلے سے لگا یا اور مجھے ٹھنڈا جوس دیا جو اس نے میرے لئے خریدا تھا میں نے جوس کا ایک گھونٹ لیا اور ماں کے پسینے سے شرابور چہرے کی طرف دیکھا میں نے جوس ماں کی طرف بڑھا دیا تو وہ بولی نہیں بیٹا تم پیو مجھے پیاس نہی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔یہ میری ماں کا چوتھا جھوٹ تھا-
میرے باپ کی وفات ہو گئی زندگی اور مشکل ہو گئی نوبت فاقوں تک آ گئی ہمارے پڑو سیوں نے ہماری یہ حالت دیکھی تو میری ماں کو دوسری شادی کا مشورہ دیا اور کہا ابھی تم جوان ہو تمہیں سہارے کی ضرورت ہے ماں نے کہا نہیں مجھے سہارے کی ضرورت نہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔یہ میری ماں کا پانچواں جھوٹ تھا-
جب میں نے گریجویشن مکمل کر لیا تو مجھے اچھی جاب مل گئی تو میں نے ماں سے کہا اب تم آرام کرو اور اپنی تنخواہ میں سے کچھ رقم ان کے لئے مختص کر دی تو انہوں نے لینے سے انکار کر دیا اور کیا میرے پاس بہت ہیں تم رکھ لو مجھے پیسوں کی ضرورت نہیں ہے ۔۔۔۔۔۔۔یہ ماں کا چھٹا جھوٹ تھا-
پھر مجھے جرمنی مے کام کی آفر ہوئی میں نے وہاں سیٹل ہونے کے بعد انہیں اپنے پاس بلانے کے لئے فون کیا تو اس نے میری تنگی کے خیال سے منع کر دیا اور بولی مجھے باہر رہنے کی عادت نہی میں نہیں رہ پاؤں گی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔یہ میری ماں کا ساتواں جھوٹ تھا-
میری ماں کو کینسر ہو گیا میں سب چھوڑ کر ان کے پاس پہنچ گیا اس نے مجھے دیکھ کر مسکرانے کی کوشش کی میرا دل ان کی حالت پر خون کے آنسو رو رہا تھا میرے آنکھوں سے آنسو نکل آئے تو ماں کہنے لگی مت رو بیٹا مجھے کوئی تکلیف نہیں ہو رہی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔یہ میری ماں کا آٹھواں جھوٹ تھا-
پھر میری ماں نے ہمیشہ کے لئے آنکھیں بند کر لیں
جن کے پاس ماں ہے اس عظیم نعمت کی حفاظت کرے اس سے پہلے کہ یہ نعمت ہم سے چھن جائے-
اور جن کے پاس نہیں ہے ہمیشہ یاد رکھے کہ انھوں نے ہمارے لئے کیا کچھ کیا اور ان کی مغفرت کے لئے دعا کرتے رہیں-
رَبِّ ارحَمھُمَا کَمَا رَبَّیَانِی صَغِیرًا (بنی اسرائیل 24
اے میرے رب! میرے والدین پر رحم فرما جس طرح انہوں نے بچپن میں مجھے پالا تھا آمین ثمہ آمین
مصنف ہم میں سے کوئی بھی ہو سکتا ہے

بہاروں کی نمائش روبرو بادِ صبا ہوکر

بہاروں کی نمائش روبرو بادِ صبا ہوکر
گلوں میں شوخیاں ہر پل مچلتی ہیں حیا ہوکر

ہماری نا مرادی کا سبب کیا پوچھتے ہو تم
ہماری بستیاں لوٹی فسادی رونما ہوکر

ہمیشہ ہی ہمیں ناکامیوں سے گزرنا تھا
سفر ہم نے کیا جب جب صنم تم سے خفا ہوکر

بہت معصوم سی بیٹی اسے جب مانگنا ہو کچھ
تبھی چنچل اداؤں سے مچلتی التجا ہوکر

تمہاری یاد کے جگنو ہر شب جھلملا تے ہیں
تصور بھی تمہارا کب تلک بدلے نیا ہوکر

محبت خوب کرتے ہو مگر یہ تو ذرا سوچو
تعاقب میں رہا کرتے نہیں یوں ہمنوا ہوکر

کہاں کی دوستی اور کیسے میزباں ناصؔر
گئے کتنے جہاں والے زمانے سے فنا ہوکر

ناصر حسین ندوؔی

ﺷﯿﺸﻮﮞ ﮐﺎ ﻣﺴﯿﺤﺎ ﮐﻮﺋﯽ ﻧﮩﯿﮟ

ﺷﯿﺸﻮﮞ ﮐﺎ ﻣﺴﯿﺤﺎ ﮐﻮﺋﯽ ﻧﮩﯿﮟ
ﻣﻮﺗﯽ ﮨﻮ ﮐﮧ ﺷﯿﺸﮧ، ﺟﺎﻡ ﮐﮧ ﺩُﺭ
ﺟﻮ ﭨﻮﭦ ﮔﯿﺎ، ﺳﻮ ﭨﻮﭦ ﮔﯿﺎ
ﮐﺐ ﺍﺷﮑﻮﮞ ﺳﮯ ﺟﮍ ﺳﮑﺘﺎ ﮨﮯ
ﺟﻮ ﭨﻮﭦ ﮔﯿﺎ ، ﺳﻮ ﭼﮭﻮﭦ ﮔﯿﺎ
ﺗﻢ ﻧﺎﺣﻖ ﭨﮑﮍﮮ ﭼﻦ ﭼﻦ ﮐﺮ
ﺩﺍﻣﻦ ﻣﯿﮟ ﭼﮭﭙﺎﺋﮯ ﺑﯿﭩﮭﮯ ﮨﻮ
ﺷﯿﺸﻮﮞ ﮐﺎﻣﺴﯿﺤﺎ ﮐﻮﺋﯽ ﻧﮩﯿﮟ
ﮐﯿﺎ ﺁﺱ ﻟﮕﺎﺋﮯ ﺑﯿﭩﮭﮯ ﮨﻮ
ﺷﺎﯾﺪ ﮐﮧ ﺍﻧﮩﯽ ﭨﮑﮍﻭﮞ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﯿﮟ
ﻭﮦ ﺳﺎﻏﺮِ ﺩﻝ ﮨﮯ ﺟﺲ ﻣﯿﮟ ﮐﺒﮭﯽ
ﺻﺪ ﻧﺎﺯ ﺳﮯ ﺍُﺗﺮﺍ ﮐﺮﺗﯽ ﺗﮭﯽ
ﺻﮩﺒﺎﺋﮯ ﻏﻢِ ﺟﺎﻧﺎﮞ ﮐﯽ ﭘﺮﯼ
ﭘﮭﺮ ﺩﻧﯿﺎ ﻭﺍﻟﻮﮞ ﻧﮯ ﺗﻢ ﺳﮯ
ﯾﮧ ﺳﺎﻏﺮ ﻟﮯ ﮐﺮ ﭘﮭﻮﮌ ﺩﯾﺎ
ﺟﻮ ﻣﮯ ﺗﮭﯽ ﺑﮩﺎﺩﯼ ﻣﭩﯽ ﻣﯿﮟ
ﻣﮩﻤﺎﻥ ﮐﺎ ﺷﮩﭙﺮ ﺗﻮﮌ ﺩﯾﺎ
ﯾﮧ ﺭﻧﮕﯿﮟ ﺭﯾﺰﮮ ﮨﯿﮟ ﺷﺎﯾﺪ
ﺍُﻥ ﺷﻮﺥ ﺑﻠﻮﺭﯾﮟ ﺳﭙﻨﻮﮞ ﮐﮯ
ﺗﻢ ﻣﺴﺖ ﺟﻮﺍﻧﯽ ﻣﯿﮟ ﺟﻦ ﺳﮯ
ﺧﻠﻮﺕ ﮐﻮ ﺳﺠﺎﯾﺎ ﮐﺮﺗﮯ ﺗﮭﮯ
ﻧﺎﺩﺍﺭﯼ، ﺩﻓﺘﺮ، ﺑﮭﻮﮎ ﺍﻭﺭ ﻏﻢ
ﺍﻥ ﺳﭙﻨﻮﮞ ﺳﮯ ﭨﮑﺮﺍﺗﮯ ﺭﮨﮯ
ﺑﮯ ﺭﺣﻢ ﺗﮭﺎ ﭼﻮﻣﮑﮫ ﭘﺘﮭﺮﺍﻭ
ﯾﮧ ﮐﺎﻧﭻ ﮐﮯ ﮈﮬﺎﻧﭽﮯ ﮐﯿﺎ ﮐﺮﺗﮯ
ﯾﺎ ﺷﺎﯾﺪ ﺍﻥ ﺫﺭﻭﮞ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﯿﮟ
ﻣﻮﺗﯽ ﮨﮯ ﺗﻤﮩﺎﺭﯼ ﻋﺰﺕ ﮐﺎ
ﻭﮦ ﺟﺲ ﺳﮯ ﺗﻤﮩﺎﺭﮮ ﻋﺠﺰ ﭘﮧ ﺑﮭﯽ
ﺷﻤﺸﺎﺩ ﻗﺪﻭﮞ ﻧﮯ ﺭﺷﮏ ﮐﯿﺎ
ﺍﺱ ﻣﺎﻝ ﮐﯽ ﺩﮬﻦ ﻣﯿﮟ ﭘﮭﺮﺗﮯ ﺗﮭﮯ
ﺗﺎﺟﺮ ﺑﮭﯽ ﺑﮩﺖ، ﺭﮨﺰﻥ ﺑﮭﯽ ﮐﺌﯽ
ﮨﮯ ﭼﻮﺭﻧﮕﺮ، ﯾﺎﮞ ﻣﻔﻠﺲ ﮐﯽ
ﮔﺮﺟﺎﻥ ﺑﭽﯽ ﺗﻮ ﺁﻥ ﮔﺌﯽ
ﯾﮧ ﺳﺎﻏﺮ، ﺷﯿﺸﮯ، ﻟﻌﻞ ﻭ ﮔﮩﺮ
ﺳﺎﻟﻢ ﮨﻮﮞ ﺗﻮ ﻗﯿﻤﺖ ﭘﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ
ﯾﻮﮞ ﭨﮑﮍﮮ ﭨﮑﮍﮮ ﮨﻮﮞ، ﺗﻮ ﻓﻘﻂ
ﭼﺒﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ، ﻟﮩﻮ ﺭُﻟﻮﺍﺗﮯ ﮨﯿﮟ
ﺗﻢ ﻧﺎﺣﻖ ﺷﯿﺸﮯ ﭼﻦ ﭼﻦ ﮐﺮ !
ﺩﺍﻣﻦ ﻣﯿﮟ ﭼﮭﭙﺎﺋﮯ ﺑﯿﭩﮭﮯ ﮨﻮ
ﺷﯿﺸﻮﮞ ﮐﺎ ﻣﺴﯿﺤﺎ ﮐﻮﺋﯽ ﻧﮩﯿﮟ
ﮐﯿﺎ ﺁﺱ ﻟﮕﺎﺋﮯ ﺑﯿﭩﮭﮯ ﮨﻮ
ﯾﺎﺩﻭﮞ ﮐﮯ ﮔﺮﯾﺒﺎﻧﻮﮞ ﮐﮯ ﺭﻓﻮ
ﭘﺮ ﺩﻝ ﮐﯽ ﮔﺰﺭ ﮐﺐ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﮯ
ﺍﮎ ﺑﺨﯿﮧ ﺍُﺩﮬﯿﮍﺍ، ﺍﯾﮏ ﺳﯿﺎ
ﯾﻮﮞ ﻋﻤﺮ ﺑﺴﺮ ﮐﺐ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﮯ
ﺍﺱ ﮐﺎﺭﮔﮧِ ﮨﺴﺘﯽ ﻣﯿﮟ ﺟﮩﺎﮞ
ﯾﮧ ﺳﺎﻏﺮ، ﺷﯿﺸﮯ ﮈﮬﻠﺘﮯ ﮨﯿﮟ
ﮨﺮ ﺷﮯ ﮐﺎ ﺑﺪﻝ ﻣﻞ ﺳﮑﺘﺎ ﮨﮯ
ﺳﺐ ﺩﺍﻣﻦ ﭘُﺮ ﮨﻮ ﺳﮑﺘﮯ ﮨﯿﮟ
ﺟﻮ ﮨﺎﺗﮫ ﺑﮍﮬﮯ ، ﯾﺎﻭﺭ ﮨﮯ ﯾﮩﺎﮞ
ﺟﻮ ﺁﻧﮑﮫ ﺍُﭨﮭﮯ، ﻭﮦ ﺑﺨﺘﺎﻭﺭ
ﯾﺎﮞ ﺩﮬﻦ ﺩﻭﻟﺖ ﮐﺎ ﺍﻧﺖ ﻧﮩﯿﮟ
ﮨﻮﮞ ﮔﮭﺎﺕ ﻣﯿﮟ ﮈﺍﮐﻮ ﻻﮐﮫ ، ﻣﮕﺮ
ﮐﺐ ﻟﻮﭦ ﭼﮭﭙﭧ ﺳﮯ ﮨﺴﺘﯽ ﮐﯽ
ﺩﻭﮐﺎﻧﯿﮟ ﺧﺎﻟﯽ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﯿﮟ
ﯾﺎ ﭘﺮﺑﺖ ﭘﺮﺑﺖ ﮨﯿﺮﮮ ﮨﯿﮟ
ﯾﺎﮞ ﺳﺎﮔﺮ ﺳﺎﮔﺮ ﻣﻮﺗﯽ ﮨﯿﮟ
ﮐﭽﮫ ﻟﻮﮒ ﮨﯿﮟ ﺟﻮ ﺍﺱ ﺩﻭﻟﺖ ﭘﺮ
ﭘﺮﺩﮮ ﻟﭩﮑﺎﺋﮯ ﭘﮭﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ
ﮨﺮ ﭘﺮﺑﺖ ﮐﻮ، ﮨﺮ ﺳﺎﮔﺮ ﮐﻮ
ﻧﯿﻼﻡ ﭼﮍﮬﺎﺗﮯ ﭘﮭﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ
ﮐﭽﮫ ﻭﮦ ﺑﮭﯽ ﮨﯿﮟ ﺟﻮ ﻟﮍ ﺑﮭِﮍ ﮐﺮ
ﯾﮧ ﭘﺮﺩﮮ ﻧﻮﭺ ﮔﺮﺍﺗﮯ ﮨﯿﮟ
ﮨﺴﺘﯽ ﮐﮯ ﺍُﭨﮭﺎﺋﯽ ﮔﯿﺮﻭﮞ ﮐﯽ
ﮨﺮ ﭼﺎﻝ ﺍُﻟﺠﮭﺎﺋﮯ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ
ﺍﻥ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺭَﻥ ﭘﮍﺗﺎ ﮨﮯ
ﻧِﺖ ﺑﺴﺘﯽ ﺑﺴﺘﯽ ﻧﮕﺮ ﻧﮕﺮ
ﮨﺮ ﺑﺴﺘﮯ ﮔﮭﺮ ﮐﮯ ﺳﯿﻨﮯ ﻣﯿﮟ
ﮨﺮ ﭼﻠﺘﯽ ﺭﺍﮦ ﮐﮯ ﻣﺎﺗﮭﮯ ﭘﺮ
ﯾﮧ ﮐﺎﻟﮏ ﺑﮭﺮﺗﮯ ﭘﮭﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ
ﻭﮦ ﺟﻮﺕ ﺟﮕﺎﺗﮯ ﺭﮨﺘﮯ ﮨﯿﮟ
ﯾﮧ ﺁﮒ ﻟﮕﺎﺗﮯ ﭘﮭﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ
ﻭﮦ ﺁﮒ ﺑﺠﮭﺎﺗﮯ ﺭﮨﺘﮯ ﮨﯿﮟ
ﺳﺐ ﺳﺎﻏﺮ، ﺷﯿﺸﮯ، ﻟﻌﻞ ﻭ ﮔﻮﮨﺮ
ﺍﺱ ﺑﺎﺯﯼ ﻣﯿﮟ ﺑَﺪ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ
ﺍُﭨﮭﻮ ﺳﺐ ﺧﺎﻟﯽ ﮨﺎﺗﮭﻮﮞ ﮐﻮ
ﺍِﺱ ﺭَﻥ ﺳﮯ ﺑﻼﻭﮮ ﺁﺗﮯ ﮨﯿﮟ