اگر اس نوٹس

اے دلِ درد آشنا!! حسن سے رسم و راہ کر

اے دلِ درد آشنا!! حسن سے رسم و راہ کر
عشق ہے باعثِ نجات شوق سے تو گناہ کر

لطف بھی گاہ گاہ کر، ظلم بھی بے پناہ کر
جیسے بھی تجھ سے ہو سکے مجھ سے مگر نباہ کر

میرے سوالِ وصل پر آج وہ مجھ سے کہہ گئے
تو ابھی چند روز اور ہجر میں آہ آہ کر

حُسن ترے حضور خود آئے بہ اضطرابِ دل
اے دلِ درد آشنا! ایسی بھی ایک آہ کر

شوق ہے گر وقار کا گلشنِ روزگار میں
پھولوں کے ساتھ ہی عزیز کانٹوں سے بھی نباہ کر

(عزیز وارثی)

اگر اس نوٹس

اتنی فرصت نہیں اب اور سخن کیا لکھنا

اتنی فرصت نہیں اب اور سخن کیا لکھنا
بس بہ انداز غزل اس کا سراپا لکھنا

اس کی آنکھوں میں مچلتے ھوئے دریا پڑھنا
دل کو سیلاب کے موسم میں بھی پیاسا لکھنا

بزم خورشید رخاں میں وہ الگ،سب سے الگ
حلقئہ گل بدناں میں اسے یکتا لکھنا

اس کی زلفوں میں اندھیروں کو بکھرنے دینا
اس کے چہرے کو مگر چاند کا ٹکڑا لکھنا

اس کے ابرو کو ہلال شب وعدہ کہنا
اس کے رخسار کی سرخی کو شفق سا لکھنا

اس کے ماتھے پہ سجانا کئی صبحوں کے ورق
اس کی جھکتی ھوئی پلکوں پہ فسانہ لکھنا

اس کی آہٹ سے چرا لینا چٹکتی کلیاں
اس کی قامت پہ قیامت کا قصیدہ لکھنا

گھولنا دھوپ میں خود اس کے بدن کی چاندی
اس کے سائے کو قسم کھا کے سنہرا لکھنا

صبح کی پہلی کرن اس کے تبسم کی زکوۃ
شام کو بخشش دلدار کا دریا لکھنا

اس کے ملبوس کو رنگوں کے سمندر جیسا
اس کے آنچل کو سمندر کا کنارہ لکھنا

زندگی مرحمت جنبش لب کا اقرار
اس کی ہر سانس کو اعجاز مسیحا لکھنا

اس کی باتوں کو تلاوت کی طرح دہرانا
اس کے ملنے کو بھی الہام کا لمحہ لکھنا

شب کو انگڑائی سے جب اس کا بدن ٹوٹتا ھے
اوج پر اپنے مقدر کا ستارہ لکھنا

وہ اگر خواب میں بلقیس کی صورت اترے
خواب کو خواب نہیں ملک سبا کا لکھنا

دیکھ لینا اغیار کی محفل میں مگر
دل کی باتوں پہ نہ جانا اسے اپنا لکھنا

ذکر مقتل کا جو کرنا ھو تو”محسن”پیارے
اپنے قاتل کو بہر طور مسیحا لکھنا


شاعر محسن نقوی

اگر اس نوٹس

ادب سے پہلے سلام اُنﷺ کو اے صباکہیو

ادب سے پہلے سلام اُنﷺ کو اے صباکہیو
پھــر اُس کے بعد غریــــبوں کا ماجـــرا کہیو۔۔۔!!!

کمی نہ کیجیو کچھ اِس میں اپنی جانب سے
گــــزر رہی ہے جو ہــــم پر ذرا ذرا کہـــیو۔۔۔!!!

نہ غمــــگسار نہ ہمــــدم کـــوئی رہا کہیو
بس اُنﷺ کے نام کا باقی ہے آســـرا کہیو۔۔۔!!!

برائے نام ہی جو اُنﷺ سے نسبت رکھتے ہیں
اِس ایک جــــرم کی کیا کیا ملی ســـزا کہیو۔۔۔!!!

دو ایک حــــادثہ ہوتا تو صــــبر کـــر لیتے
بنــــدھا ہوا ہے مـــصائب کا سلسلہ کہیو۔۔۔!!!

اندھیری شب میں نہیں صُبح کے اُجالے میں
لُٹا ہے اُنﷺ کے غــــلاموں کا قافلہ کہیو۔۔۔!!!

بڑی تڑپ ہے حضــــوری کے واسطے لیکن
کیا ہے بنـــد مُـــــقدّر نے راســـتہ کہیو۔۔۔!!!

ﺻَﻠَّﯽ ﺍﻟﻠّٰﮧُ ﻋَﻠٰﯽ ﺣَﺒِﯿﺒِﮧ ﺳَّﻴِﺪِﻧَﺎ ﻣُﺤَﻤَّﺪٍ ﻭَّﺍٰﻟِﮧ ﻭَﺳَﻠَّﻢَ

ڈاکٹــــــر کلیــــم عاجزؔ

اگر اس نوٹس

” اُس کے لیے "

” اُس کے لیے "

وہی غنچوں کی شادابی وہی پھولوں کی نکہت ہے
وہی سیرِ گلستاں ہے وہی جوشِ مسرت ہے
وہی موجِ تبسم ہے وہی اندازِ فطرت ہے
وہی دامِ تخیل ہے وہی رنگِ حقیقت ہے
وہی صبح و مسا ہوتی ہے لیکن تم نہیں ہوتیں
بڑی رنگیں فضا ہوتی ہے لیکن تم نہیں ہوتیں

وہی مخمور راتیں اب بھی تصویرِ تخیل ہیں
وہی دلچسپ باتیں اب بھی تصویرِ تخیل ہیں
وہی پرکیف گھاتیں اب بھی تصویرِ تخیل ہیں
ستاروں کی براتیں اب بھی تصویرِ تخیل ہیں
وہی موجِ صبا ہوتی ہے لیکن تم نہیں ہوتیں
بڑی رنگیں فضا ہوتی ہے لیکن تم نہیں ہوتیں

گھٹائیں اب بھی اٹھتی ہیں تلاطم اب بھی ہوتا ہے
شگوفے اب بھی کِھلتے تبسم اب بھی ہوتا ہے
عنادل اب بھی گاتے ہیں ترنم اب بھی ہوتا ہے
جوانی اب بھی ہنستی ہے تکلم اب بھی ہوتا ہے
ہر اک شے خوشنما ہوتی ہے لیکن تم نہیں ہوتیں
بڑی رنگیں فضا ہوتی ہے لیکن تم نہیں ہوتیں

تمہاری یاد ایسے میں ستاتی ہے مجھے اب بھی
شبِ تنہائی میں پہروں رُلاتی ہے مجھے اب بھی
صبا کے دوش پر آ کر جگاتی ہے مجھے اب بھی
حواس و ہوش سے بیخود بناتی ہے مجھے اب بھی
تمنائے وفا ہوتی ہے لیکن تم نہیں ہوتیں
بڑی رنگیں فضا ہوتی ہے لیکن تم نہیں ہوتیں

جنوں ساماں نظاروں کے تقاضے اب بھی ہوتے ہیں
تمنا اب بھی ہوتی ہے ارادے اب بھی ہوتے ہیں
زمانہ اب بھی ہنستا ہے تماشے اب بھی ہوتے ہیں
نگاہیں اب بھی اٹھتی ہیں اشارے اب بھی ہوتے ہیں
خوشی دل آشنا ہوتی ہے لیکن تم نہیں ہوتیں
بڑی رنگیں فضا ہوتی ہے لیکن تم نہیں ہوتیں

رہے گا یوں لبوں پر شکوۂ جورِ خزاں کب تک
ستائے گا بھلا نازک دلوں کو یہ جہاں کب تک
مسلسل آزمائش اور پیہم امتحاں کب تک
میں تم سے دور رہ کر جی سکوں گا یوں یہاں کب تک
تمنا کیا سے کیا ہوتی ہے لیکن تم نہیں ہوتیں
بڑی رنگیں فضا ہوتی ہے لیکن تم نہیں ہوتیں

مجھے دن رات رہتی ہے تمہاری جستجو اب بھی
تصور میں کیا کرتا ہوں تم سے گفتگو اب بھی
خدا شاہد ہے میرے دل میں ہے یہ آرزو اب بھی
کہ تم آ جاؤ چشمِ منتظر کے رو بہ رو اب بھی
یہ خواہش بارہا ہوتی ہے لیکن تم نہیں ہوتیں
بڑی رنگیں فضا ہوتی ہے لیکن تم نہیں ہوتیں

(شوکت پردیسی)

اگر اس نوٹس

شعورِ نو عمر ہوں نہ مجھ کو متاعِ رنج و ملال دینا

شعورِ نو عمر ہوں نہ مجھ کو متاعِ رنج و ملال دینا
کہ مجھ کو آتا نہیں غموں کو خوشی کے سانچوں میں ڈھال دینا

حدود میں اپنی رہ کے شاید بچا سکوں میں وجود اپنا
میں ایک قطرہ ہوں مجھ کو دریا کے راستے پر نہ ڈال دینا

اگر خلا میں پہنچ گیا تو پلٹ کے واپس نہ آ سکوں گا
تم اپنی حدِّ کشش سے اونچا نہ مجھ کو یارو اچھال دینا

وہ صورتاً آدمی ہے لیکن مزاج سے بمارِ آستیں ہے
اگر اسے آستیں میں رکھنا تو زہر پہلے نکال دینا

نہ جانے کھڑکی سے جھانکتی یہ کرن کسے راستہ دکھا دے
تم اپنے کمرے کی کھڑکیوں پر دبیز پردے نہ ڈال دینا

سکوتِ شب توڑنے کی خاطر بھی کوئی ہنگامہ ساتھ رکھنا
نہ شام ہوتے ہی ہر تمنا کو قید خانے میں ڈال دینا

یہ ہم نے مانا کہ تم میں سورج کی سی تپش ہے مگر یہ سن لو
کہ ہم سمندر ہیں اور آساں نہیں سمندر ابال دینا

(احتشام الحق صدیقی)