جب مجھ سے پوچھتا ہے کوئی ماجرائے دل

جب مجھ سے پوچھتا ہے کوئی ماجرائے دل
بے اختیار منھ سے نکلتا ہے ” ہائے دل "

کوئی تو بات تھی کہ جو ہم تم پہ مر مٹے
صورت ہی دل رہا ہو تو کیونکر نہ آئے دل

ہم تم کو کیا کہیں مگر اتنی دعا تو ہے
اس کا بھی دل دکھے جو ہمارا دکھائے دل

نقصان ہو کہ نفع برابر ہے عشق میں
جائے تو جائے جان جو آئے تو آئے دل

قاصد گیا گیا ، نہ گیا کس کو اعتیار
میری تو رائے یہ ہے کہ ہمراہ جائے دل

حوریں بہت حسین سہی شیخ جی مگر
جو کوئی ہو تمھیں سا تو ان سے لگائے دل

دونوں کے اتحاد کی فرقت میں حد نہیں
دل آشنائے درد ہے ، درد آشنائے دل

شکوہ کیا ستم کا تو کہنے لگا وہ شوخ
ہم پوچھتے ہیں ہم سے کوئی کیوں لگائے دل

سنتے ہیں ہجر عشق میں دیوانہ ہو گیا
پوچھو مزاج بھی تو وہ کہتا ہے ہائے دل

(نواب ناظم علی خاں ہجرؔ)

ہم اٹھ جائیں گے محفل سے تو ان کو جستجو ہوگی

ہم اٹھ جائیں گے محفل سے تو ان کو جستجو ہوگی
ہمارا ذکر آئے گا ، ہماری گفتگو ہوگی

یہ مانا دیکھنے کو وہ زمانہ ہم نہیں ہوں گے
ہمیں ڈھونڈے گی دنیا جب تمہاری جستجو ہوگی

کسی کو خونِ ناحق رائیگاں تو جا نہیں سکتا
وفا کا رُوپ نکھرے گا ، محبت سرخرو ہوگی

تمہارے نام سے پہلے ہمارا نام آئے گا
جہاں عشق و وفا کے سلسلے میں گفتگو ہوگی

بڑا پر لطف ہوگا وہ نیاز و ناز کا عالم
نظارہ تو کرے گا دل ، نظر سے گفتگو ہوگی

فروغِ جلوہ گاہِ ناز اپنی ہی نظر تک ہے
وہاں تک جلوے بھی ہوں گے جہاں تک جستجو ہوگی

تجلی خود بھی پردہ ہے مگر جب دل سے دیکھیں گے
بہر صورت نگاہوں میں وہ صورت ہُو بہ ہُو ہوگی

نظر کا مدعا ، دل کی تمنا کون دیکھے گا
وہ جانِ آرزو ہوگا ، تو کس کو آرزو ہوگی

بکھر جائے گا سب حُسنِ چمن بندی کا شیرازہ
ہوائے سرکشی میں جب فضائے رنگ و بُو ہوگی

ہم اس منہ بولتی بے چارگی پر دم بخود ہوں گے
وہ ہوں گے سامنے بے خود نگاہِ جلوہ جو ہوگی

سلیقہ آتے آتے آیا ہے نظروں سے پینے کا
رشی اب مے کشی بے گانۂ جام و سبُو ہوگی

(رشی پٹیالوی)

وہ دے رہا ہے "دلاسے” تو عمر بھر کے مجھے

وہ دے رہا ہے "دلاسے” تو عمر بھر کے مجھے
بچھڑ نہ جائے کہیں پھر اداس کر کے مجھے

جہاں نہ تو نہ تیری یاد کے قدم ہوں گے
ڈرا رہے ہیں وہی مرحلے سفر کے مجھے

ہوائے دشت مجھے اب تو اجنبی نہ سمجھ!
کہ اب تو بھول گئے راستے بھی گھر کے مجھے

یہ چند اشک بھی تیرے ہیں شامِ غم لیکن
اجالنے ہیں ابھی خال و خد سحر کے مجھے

دلِ تباہ ترے غم کو ٹالنے کیلیے!
سنا رہا ہے فسانے اِدھر اُدھر کے مجھے

قبائے زخم بدن پر سجا کے نکلا ہوں
وہ اب ملا بھی تو دیکھے گا آنکھ بھر کر مجھے

کچھ اس لیے بھی میں اس سے بچھڑ گیا محسن
وہ دور دور سے دیکھے ٹھہر ٹھہر کے مجھے

محسن نقوی

جو فریب میں نے کھایا تجھے رازداں سمجھ کر

جو فریب میں نے کھایا تجھے رازداں سمجھ کر
اُسے کیسے بھول جاؤں؟ اک داستاں سمجھ کر

نہ مٹاؤ ٹھوکروں سے یہ مزار ہے کسی کا
ذرا رحم کر خدارا اِسے اِک نشاں سمجھ کر

ارے او جلانے والے یہ ترا ہی تھا نشیمن
جسے تو نے پھینک ڈالا میرا آشیاں سمجھ کر

نہ بجھا چراغ ظالم ابھی دُور ہے سویرا
کہیں لو لپٹ نہ جائے تجھے بدگماں سمجھ کر

مجھے غور سے نہ دیکھو وہی نامراد گل ہوں
جسے تو نے روند ڈالا مجھے بے زباں سمجھ کر

اے شکیل کیا بتاؤں وہ کریں گے جو جفائیں
انہیں میں نے دل دیا تھا اِک مہرباں سمجھ کر

(شکیل بدایوانی)

انگڑائی بھی وہ لینے نہ پائے اٹھا کے ہاتھ

انگڑائی بھی وہ لینے نہ پائے اٹھا کے ہاتھ
دیکھا جو مجھ کو چھوڑ دیئے مسکرا کے ہاتھ

بے ساختہ نگاہیں جو آپس میں مل گئیں
کیا منہ پر اس نے رکھ لیے آنکھیں چرا کے ہاتھ

یہ بھی نیا ستم ہے حنا تو لگائیں غیر
اور اس کی داد چاہیں وہ مجھ کو دکھا کے ہاتھ

بے اختیار ہو کے جو میں پاؤں پر گرا
ٹھوڑی کے نیچے اس نے دھرا مسکرا کے ہاتھ

گر دل کو بس میں پائیں تو ناصح تری سنیں
اپنی تو مرگ و زیست ہے اس بے وفا کے ہاتھ

وہ زانوؤں میں سینہ چھپانا سمٹ کے ہائے
اور پھر سنبھالنا وہ دوپٹہ چھڑا کے ہاتھ

قاصد ترے بیاں سے دل ایسا ٹھہر گیا
گویا کسی نے رکھ دیا سینے پہ آ کے ہاتھ

اے دل کچھ اور بات کی رغبت نہ دے مجھے
سننی پڑیں گی سیکڑوں اس کو لگا کے ہاتھ

وہ کچھ کسی کا کہہ کے ستانا سدا مجھے
وہ کھینچ لینا پردے سے اپنا دکھا کے ہاتھ

دیکھا جو کچھ رکا مجھے تو کس تپاک سے
گردن میں میری ڈال دیئے آپ آ کے ہاتھ

پھر کیوں نہ چاک ہو جو ہیں زور آزمائیاں
باندھوں گا پھر دوپٹہ سے اس بے خطا کے ہاتھ

کوچے سے تیرے اٹھیں تو پھر جائیں ہم کہاں
بیٹھے ہیں یاں تو دونوں جہاں سے اٹھا کے ہاتھ

پہچانا پھر تو کیا ہی ندامت ہوئی انہیں
پنڈت سمجھ کے مجھ کو اور اپنا دکھا کے ہاتھ

دینا وہ اس کا ساغر مے یاد ہے نظامؔ
منہ پھیر کر ادھر کو ادھر کو بڑھا کے ہاتھ