اک غزل اُس پہ لکھوں دل کا تقاضا ہے بہت

اک غزل اُس پہ لکھوں دل کا تقاضا ہے بہت
اِن دنوں خود سے بچھڑ جانے کا دھڑکا ہے بہت

رات ہو دن ہو غفلت ہو کہ بیداری ہو
اُس کو دیکھا تو نہیں ہے اُسے سوچا ہے بہت

تشنگی کے بھی مقامات ہیں کیا کیا یعنی
کبھی دریا نہیں کافی ، کبھی قطرہ ہے بہت

میرے ہاتھوں کی لکیروں کے اضافے ہیں گواہ
میں نے پتھر کی طرح خود کو تراشا ہے بہت

کوئی آیا ہے ضرور اور یہاں ٹھہرا بھی ہے
گھر کی دہلیز پہ اے نور اُجالا ہے بہت

( کرشن بہاری نور )

کھڑا ہوں دھوپ میں سائے کی جستجو بھی نہیں

کھڑا ہوں دھوپ میں سائے کی جستجو بھی نہیں
یہ کیا ستم ہے کہ اب تیری آرزو بھی نہیں

مجھے تو آج بھی تجھ پر یقین ہے لیکن
ترے دیار میں انساں کی آبرو بھی نہیں

ابھی تو مے کدہ ویراں دکھائی دیتا ہے
ابھی تو وجد میں پیمانہ و سُبُو بھی نہیں

تری نگاہ میں چاہت کہاں تلاش کروں؟
تری سرشت میں شاید وفا کی خُو بھی نہیں

بس اک تعلقِ خاطر کا پاس ہے ورنہ
تُو خوبرُو سہی ، پر اتنا خُوبرو بھی نہیں

چمک اٹھے نہ ترے رُخ پہ داغِ رسوائی
یہ چاک وہ ہے کہ شرمندۂ رفُو بھی نہیں

یقین جان کہ تیرا وجود ہے مجھ سے
یہ مان لے کہ اگر میں نہیں، تو تُو بھی نہیں

(اسرار زیدی)

اک خواب ہے ، اِس خواب کو کھونا بھی نہیں ہے

اک خواب ہے ، اِس خواب کو کھونا بھی نہیں ہے
تعبیر کے دھاگے میں پرونا بھی نہیں ہے

لپٹا ہوا ہے دل سے کسی راز کی صورت
اک شخص کہ جس کو مِرا ہونا بھی نہیں ہے

رکھنا ہے سرِ چشم اِسے ساکت و جامد
پانی میں ابھی چاند بھگونا بھی نہیں ہے

ہر چند ترے نقشِ کفِ پا میں ہے لیکن
یہ دل کسی بچے کا کھلونا بھی نہیں ہے

وابستہ ہے مجھ سے کہ توُ ہے بھی کہ نہیں ہے
جب میں نہیں تجھ میں، ترا ہونا بھی نہیں ہے

یہ عشق و محبت کی روایت بھی عجب ہے
پایا نہیں جس کو، اُسے کھونا بھی نہیں ہے

جس شخص کی خاطر ترا یہ حال ہے خاورؔ
اُس نے ترے مرجانے پہ رونا بھی نہیں ہے

سکوتِ شب میں اندھیروں کو مسکرانے دے

سکوتِ شب میں اندھیروں کو مسکرانے دے
بجھے چراغ تو پھر جسم و جاں جلانے دے

دکھوں کے خواب نما نیم وا دریچوں میں
وفورِ کرب سے تاروں کو جھلملانے دے

جلانا چاہے اگر چاہتوں کا سورج بھی
بدن کے شہر کو اس دھوپ میں جلانے دے

تو اپنے سنگ نما روح کے سفینے کو
غمِ وفا کے سمندر میں ڈوب جانے دے

مرے وجود میں کانٹوں کا ایک جنگل ہے
وہ اپنی ذات کے پھولوں میں کیوں سمانے دے

کسے خبر ہے کہ ہم دونوں اپنے قاتل ہیں
جو بے خبر ہیں انہیں چیخ کر بتانے دے

ہوں منتظر کہ کوئی آج آنے والا ہے
بقدرِ ذوق در و بام کو سجانے دے

گزرتے لمحوں کے ہمراہ ٹوٹتا ہے بدن
وصالِ یار کی لذت کا بار اٹھانے دے

میں پتھروں کی طرح چپ نہیں اے تیشہ بدست
وہ اور ہوگا تجھے ضرب جو لگانے دے

جب اپنے پاؤں میں رنجیر پڑ گئی ہے تو پھر
چلا تو جاتا نہیں ، گرد ہی اڑانے دے

بھٹک رہا ہوں بگولوں کے رنگ میں نقاش
بدن تو خاک ہوا روح بھی جلانے دے

(نقاش کاظمی)

وہی ’کارواں‘ وہی ’قافلہ‘ تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو

مولانا اسماعیل میرٹھی

وہی ’کارواں‘ وہی ’قافلہ‘ تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو
وہی ’منزلیں‘ وہی ’مرحلہ‘ تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو

متفاعلن متفاعلن متفاعلن متفاعلن
اسے وزن کہتے ہیں شعر کا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو

وہی ’شکر‘ ہے جو ’سپاس‘ ہے ، وہ ’ملول‘ ہے جو ’اُداس‘ ہے
جسے ’شکوہ‘ کہتے ہو ہے ’گلہ‘ تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو

وہی ’نقص‘ ہے وہی ’کھوٹ‘ ہے، وہی ’ضرب‘ ہے وہی ’چوٹ‘ ہے
وہی ’سود‘ ہے وہی ’فائدہ‘ تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو

وہی ہے ’ندی‘ وہی ’نہر‘ ہے ، وہی ’موج‘ ہے وہی ’لہر‘ ہے
یہ ’حباب‘ ہے وہی ’بلبلہ‘ تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو

وہی ’کذب‘ ہے وہی ’جھوٹ‘ ہے، وہی ’جرعہ‘ ہے وہی ’گھونٹ‘ ہے
وہی ’جوش‘ ہے وہی ’ولولہ‘ تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو

وہی ’ساتھی‘ ہے جو ’رفیق‘ ہے ، وہی ’یار‘ ہے جو ’صَدِیق‘ ہے
وہی ’مِہر’ ہے وہی ’مامتا‘ تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو

جسے ’بھید‘ کہتے ہو ’راز‘ ہے ، جسے ’باجا‘ کہتے ہو ’ساز‘ ہے
جسے ’تان‘ کہتے ہو ہے ’نوا‘ تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو

جو ’مراد‘ ہے وہی ’مدعا‘ ، وہی ’متّقی‘ وہی ’پارسا‘
جو ’پھنسے بلا‘ میں وہ ’مبتلا‘ تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو

جو ’کہا‘ ہے میں نے ’مقال‘ ہے، جو ’نمونہ‘ ہے وہ ’مثال‘ ہے
مری ’سرگزشت‘ ہے ’ماجرا‘ تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو

جو ’چنانچہ‘ ہے وہی ’جیسا‘ ہے ، جو ’چگونہ‘ ہے وہی ’کیسا‘ ہے
جو ’چناں چنیں‘ ہے سو ’ہٰکذا‘ تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو

وہی ’خوار‘ ہے جو ’ذلیل‘ ہے وہی ’دوست‘ ہے جو ’خلیل‘ ہے
’بد‘ و ’نیک‘ کیا ہے ’بُرا‘ ’بھلا‘ تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو

بچوں کے پسندیدہ شاعر مولانا اسماعیل میرٹھی کی ایک بہترین نظم جس میں مترادف الفاظ کا استعمال کرتے ہوئے انھوں نے بچوں کے ذخیرۂ الفاظ میں اضافہ كرنے کی کوشش کی ہے